ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان جناب مہمان پرست نے اس دعوے کے رد عمل میں کہا کہ بحرینی حکام کو دوسرے ممالک کے خلاف الزام تراشی کے بجائے اپنے ملک کے عوام کی باتوں اور مطالبات پر کان دھرنا چاہیۓ اور انہیں عملی بنانا چاہیئے ۔ ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ دو سال سے جاری آل خلیفہ حکومت کی سرکوبی کے مقابلے میں اس ملک کے عوام کی استقامت ، اور عوام کے مطالبات کی جواب دہی میں منامہ کے حکام کی ناتوانی نے اس وقت آل خلیفہ کے حکمرانوں کو بے بنیاد دعوے کرنے پر مجبور کردیا ہے اور وہ اپنے ملک کے داخلی مسائل میں دوسرے ملکوں پر الزام کرنے کے ذریعے بحرین میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے رائے عامہ کومنحرف کرنے میں کوشاں ہیں۔
علاقے میں اسلامی بیداری کی لہر کے تسلسل میں ، بحرین میں بھی دو سال قبل سے انقلاب کا آغاز ہوا اور اس ملک کے عوام آل خلیفہ حکومت ظلم و فساد اور تفریق آمیز رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ بحرین کے انقلابی عوام اب اپنے انقلاب کے تیسرے سال میں حکمراں ڈکٹیٹر کے خلاف نبرد آزما ہیں اور اس مدت میں بحرین کے آمر حکمرانوں کے خلاف عوام کی استقامت و پائمردی ایک مثالی نمونے میں تبدیل ہوگئی ہے ۔
آل خلیفہ حکومت ، کہ جو عوامی احتجاجات پر قابو پانے اور ان کے مطالبات کا جواب دینے میں اب تک ناکام رہی ہے ، پڑوسی ملکوں خاص طور ایران پر اس ملک کے عوام اور حکومت کے آزادانہ موقف اور حریت پسندانہ رویے کے سبب ، الزام عائد کرنے میں کوشاں ہے ۔
اس سے قبل بھی بحرین کے بعض حکام نے اپنے ملک میں ایران پر مداخلت کا الزام لگایا تھا اور غور طلب بات تو یہ ہے کہ 2011 کے اواخر میں بادشاہ بحرین کے حکم سے ایک تحقیقاتی رپورٹ جو مرتب کی گئی تھی اس میں ان دعووں کا صراحتا انکار کیا گیا تھا ۔ اس رپورٹ میں بحرین کے واقعات میں ایران کی مداخلت پر مبنی دعووں اور 1584 ویں شق میں کہا گیا تھا کہ حکومت بحرین کو اس ملک میں رونما ہونے والے واقعات میں ایران کی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔
تہران نے بارہا کہا ہے کہ بحرینی انقلابیوں سے ایران کی حمایت ، اس ملک کے عوامی مطالبات کے عملی بنائے جانے اورحکام کی جانب سے ان مطالبات کے جواب دینے پر تاکید کی غرض سے ہے ۔ علاقے میں اسلامی بیداری سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سلسلے میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر، اسلامی جمہوریۂ ایران ، علاقے کی حکومتوں کی جانب سے عوام کے جائز مطالبات کی جواب دہی کو ان مطالبات کے مقابلے میں صحیح روش قرار دیتا ہے اور عوام کے جائزمطالبات کے سامنے کسی بھی قسم کے تشدد آمیز رویے کی سختی سے تردید کرتا ہے ۔
بحرین میں ایران ان لوگوں کی حمایت کر رہا ہے کہ جہاں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود ، اقلیت کے مظالم اور امتیازی رویوں کا ، اپنی زندگی کے ہر شعبے میں احساس کر رہے ہیں اور ان سے احتجاج اور انصاف کے مطالبے کا حق سلب کرلیا گیا ہے ۔
ایران کے خلاف منامہ کے الزامات ایسی حالت میں عائد کئے جارہے ہیں کہ گذشتہ دو برسوں میں علاقے اور دنیا کے مبصرین کی نگاہوں کے سامنے ، آل سعود فورسیزنے انقلابی عوام کی سرکوبی آشکارہ طور پر انجام دی ہے – بہت سے افراد جنہیں جیلوں سے رہائی ملی ہے ان کا کہنا ہے کہ انہیں آل سعود نے سخت ایذائیں پہنچائي ہیں ۔ بحرین میں انسانی اصولوں سے خارج یہ رویہ اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں نے آل خلیفہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال نشان لگا دیا ہے ۔
بحرین کے عوام پر ظلم و تشدد کی مغربی ممالک کی جانب سے حمایت بھی ، آزاد منشوں کے لئے ایک بڑے سوال میںتبدیل ہوگئی ہے ۔ بحرین کی موجودہ حکومت کاماڈل بھی کہ جو شیعہ مسلمانون کے حقوق غصب کرنے اور موروثی نظام پر استوار ہے ، برطانیہ کا وضع کردہ ہے –اور اسی طرح بحرین کے سکورٹی اور پولس مشیروں کا تعلق بھی برطانیہ سے ہے ۔ اس وقت بحرین ، علاقے میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے اور علاقے میں امریکہ کی فوجی پالیسی کو آگے بڑھانے کی غرض سے ، واشنگٹن کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اگر بجرین کی حکومت کو امریکہ کی اعلانیہ مدد و حمایت اور برطانیہ کی طرفداری حاصل نہ ہوتی تو کیا آل خلیفہ حکومت ، مصر ، لیبیا اور تیونس کے ڈکٹیٹروں سے زیادہ عرصہ ٹہر سکتی تھی ؟-
.......
/169