17 فروری 2013 - 20:30

ایک امریکی سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کو انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنے کا بالکل کوئي حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اکیسویں صدی میں امریکہ دنیا کا پہلے نمبر کا دہشت گرد ملک ہے۔

ابنا: امریکی سیاسی تجزیہ نگارکین اوکیف کا کہنا ہے کہ امریکہ کو انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنے کا بالکل کوئي حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اکیسویں صدی میں امریکہ دنیا کا پہلے نمبر کا دہشت گرد ملک ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں امریکہ کی متضاد اور دوگانہ پالیسی ہے ۔ امریکی تجریہ نگار کے مطابق امریکہ نے یمن اور بحرین میں انسانی حقوق کے بارےمیں بالکل آنکھیں بند کررکھی ہیں امریکہ غیر جمہوری اور ڈکٹیٹر حکومتوں کا تعاون کررہا ہے اس لئے اسے جمہوریت کے بارے میں بھی بات کرنے میں شرم آنی چاہیے ۔

امریکی تجزيہ نگار کے مطابق امریکی حکومت اور القاعدہ کی رفتار ایک جیسی ہے  اور ایسا لگتا ہے کہ دونوں کا ہدف بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہےالقاعدہ کی داغ بیل امریکہ نے ہی رکھی تھی آج بھی القاعدہ کے رہنماؤں کی ہدایت امریکی خفیہ ایجنسی کے ہاتھ میں ہے امریکہ القاعدہ سے اپنے مفاد کے لئے استفادہ کررہا ہے القاعدہ کی بدولت امریکہ خطے میں فوجی لشکر کشی کئے ہوئے ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لئے شامی عوام کا حقوق اہم نہیں ہے جس طرح امریکہ کے لئے عراقی اور افغانی عوام کے حقوق کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق ، آزادی اور جمہوریت کے پیچھے نہیں یہ سب امریکی فراڈ ہے امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کی تلاش میں ہے اور اس سلسلے میں امریکہ انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت سب کو قربان کرسکتا ہے۔

.......

/169