17 فروری 2013 - 20:30

لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کے بڑھتے ہوئے خطروں اور آئے دن لبنان کی حدود کی خلاف ورزی کے پیش نظر حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے صہیونی ریاست کو لبنان پر جارحیت کی بابت خبردار کیا ہے۔

ابنا: سید حسن نصراللہ نے شہدا‎ۓ حزب اللہ کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ صہیونی ریاست کے ہوائي اڈے، بندرگاہیں اور بجلی گھر حزب اللہ کے میزائيلوں کی زد میں ہیں اور صیہونی حکام کی کسی طرح کی غلطی انہیں نابودی کی کھائي میں پہنچاسکتی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے کہا حزب اللہ فلسطین کی طاقتور حامی ہے اور صہیونی ریاست فلسطین پر دسیوں برسوں کا غاصبانہ قبضہ رکھنے کےباوجود بھی مستقبل قریب میں نابود ہوجائے گی۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ حزب اللہ کو لبنان میں بے پناہ کامیابیاں ملی ہیں اور گذشتہ تیس برسوں میں اس نے طاقت کا وہ توازن بدل کر رکھ دیا ہے جسے بڑی طاقتوں نے دسیوں برسوں سے مسلط کررکھا تھا۔
دراصل حزب اللہ لبنان صہیونی ریاست کی جارحیت کے مقابل نہایت بااثر رکاوٹ ہے اور اسے صہیونی ریاست کی سازشوں کو ناکام بنانے والی قوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر حزب اللہ کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور لبنانی حکام بھی اس کا لوہا ماننے لگے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے گذشتہ چند برسوں میں صہیونی ریاست کو پے در پے شکست دے کر طاقت کے اس توازن کو ختم کردیا جو صہیونی ریاست اور اسکے حامیوں کی جانب سے علاقے پر مسلط کیا گيا تھا۔ صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں نے علاقے پر رعب و وحشت کی فضا قائم کرکے اور صہیونی ریاست کے تسخیر ناپذیر ہونے کا پروپگينڈا کرکے اس کے خلاف ہرطرح کی مزاحمت کو ختم کرنے کی سازش تیار کی تھی لیکن حزب اللہ کے ہاتھوں صہیونی ریاست کی پے درپےشکستوں سے قدس کی غاصب حکومت اور امریکہ کی تمام سازشیں ناکام ہوگئيں۔ سن دوہزار میں جنوبی لبنان سے صہیونی ریاست کی شرمناک شکست سے اس غاصب حکومت کی ناکامیوں کا آغاز ہوا تھا جو آج تک جاری ہے۔ اس کےبعد دوہزار چھے میں صہیونی ریاست کو حزب اللہ نے تینتیس روز جنگ میں ایسی کراری شکست سے دوچار کیا کہ آج بھی وہ اس شکست کے زخم چاٹ رہی ہے۔ صہیونی ریاست کو بار بار شکست سے دوچار کرنے کے بنا پر ہی حزب اللہ اس غاصب حکومت کے خلاف جدوجہد کا رول ماڈل بن گئي ہے۔ اس سے فلسطین کی مزاحمت کو بھی حوصلہ حاصل ہوا ہے اور اس نے بھی اب حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صہیونی ریاست کے دانٹ کھٹے کرنے شروع کردئےہیں۔ دوہزار پانچ میں صہیونی ریاست کا غزہ سے پسپائي اختیار کرنا اور دوہزارآٹھ میں بائيس دنوں کی جارحیت میں اپنے اھداف تک نہ پہنچنا نیز آٹھ روزہ جارحیت میں بھی اسے مکمل شکست ہونا فلسطینی عوام کے  ہاتھوں صہیونی ریاست کی شرمناک ہزیمتوں کے نمونے ہیں۔ تجربے سے ثابت ہوچکا ہےکہ صہیونی ریاست کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے کی واحد راہ مزاحمت و استقامت ہے جبکہ سازباز سے صرف صہیونی ریاست کی توسیع پسندی میں اضافہ ہی ہوگا۔ ان حالات میں سید حسن نصراللہ نے علاقے کے حساس حالات کا منطقی تجزیہ و تحلیل پیش کرکے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقائي عوام کے دشمن صہیونی ریاست اور اسکے حامی ہیں اور اس کے خلاف مزاحمت اور پائداری جاری رہنا چاہیے۔ 

.......

/169