13 فروری 2013 - 20:30

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آزادی کے مدافع ، انسانی حقوق کی تنظمیوں اور جمھوریت کے طلبگاروں کی دوگانہ سیاست کو محکوم کرتے ہوئے کہا: جمھوریت کے دعویدار فوجیں بھیج کر ایک طرف بحرین کے عوامی قیام کو کچلنے اور دوسری جانب سوریہ میں دکھوائے کا قیام عمل میں لانے میں کوشاں ہیں۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے کل اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی موجودگی میں مسجد آعظم حرم مطھر حضرت معصوم قم میں منعقد ہوا روایات کے آئینے میں بدگمانی اور سوء ظن کی تفصیل بیان کی۔

انہوں نے ان روایات سے حاصل دروس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اگر ھم چاھتے ہیں کہ لوگوں کے دل ھم سے صاف رہیں تو پہلے اپنے دل کو لوگوں کی بہ نبست صاف کریں تاکید کی : دوسروں کی اصلاح کا آغاز خود اپنی اصلاح سے کریں ، انسان دوسروں کا خیر خواہ اور ان کا وفادار رہے تاکہ لوگ اس کے خیر خواہ اور وفادار رہیں۔

اس مرجع تقلید نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج کی دنیا میں یہ ھمارے لئے بھی اھم درس ہے کہا: ھمارے دشمن کبھی ھمیں مزاکرہ کی پیش کش کرتے ہیں اگر چہ بعض افراد ان کی لچھے دار باتوں کے دھوکہ میں آ کر کہتے ہیں کہ جب انہوں نے ہاتھ بڑھایا ہے تو ھم بھی ان سے مذاکرہ کریں جب کہ ھمیں متوجہ رہنا چاھئے کہ انہوں نے ھر میدان میں ھم سے اپنی دشمنی کا مظاھرہ کیا اورھم پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ھرگز ھمارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے مزید کہا: البتہ ممکن ہے کہ ایک وقت ائے جب مذاکرہ انجام پائے مگر اطمینان نہ کرنا اور ان کے سلسلہ میں بدگمانی فطری امر ہے چوں کہ ھمارے دشمن ھمارے خیر خواہ نہیں رہے ہیں اور ابھی تک ھم نے ان سے وفاداری نہیں دکھی ہے اور اسی بنیاد پر اطمینان نہ کرنا ایک فطری امر ہے۔

اس مرجع تقلید نے مزید کہا: اگر آیات قرآن کریم اور روایات اهل بیت علیھم السلام خصوصا نهج البلاغه میں امام علی(ع) کے کلمات کو یکجا کیا جائے تو مذهبی اور اسلامی نفسیاتی علوم کا ایک مجموعہ تیار ہوگا۔

انہوں نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں مظلوم بحرینیوں کے عوامی قیام کی دوسری سالگرہ کے موقع پر یاد دہانی کی : دوسال پہلے انہیں ایام میں بحرین کے عوامی قیام کا آغاز ہوا اور ابھی تک سیکڑوں شھید اس قیام کی راہ میں تقدیم کئے گئے اور تقریبا ۱۶۰۰ علما، شخصیتیں ، جوان ، نوجوان اور خواتین آل خلیفہ جیلوں میں موجود ہیں ، ایک مختصر آبادی والے ملک کے لئے یہ تعداد بہت بڑی تعداد ہے۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بحرینی عوام آل خلیفہ پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے کہا: واقعا ھم عجیب دنیا میں زندگی بسر کررہے ہیں ، ایک دوسرے سے قریب دنیا کے دو کونے میں دو مختلف کام انجام پارہے ہیں اور جمھوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار دونوں ہی کا دفاع کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: بحرینی شیعہ و سنی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمہ حقوق کے طلبگار ہیں مگر ملکی سرحدوں سے باہر ان کی تقدیروں کا فیصلہ کیا جارہا ہے اور عالمی سامراجیت کے غلام ممالک سے بحرین میں فوجیں بھیجی جارہی ہیں تاکہ عوامی قیام کو کچل کر رکھ دیا جائے۔

اس مرجع تقلید نے مزید کہا: سوریہ میں بھی باہر سے فورس بھیجی گئی تاکہ دکھواے کا قیام عمل میں آسکے اور قابل توجہ یہ ہے کہ جہاں یہی لوگ بحرینی قیام کو کچلنے میں کوشاں ہیں اور وہیں دوسری جانب جمھوریت اور انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے عالمی سامراجیت ، آزادی کے مدافع ، انسانی حقوق کی تنظمیوں اور جمھوریت کے طلبگاروں کی دوگانہ سیاست کو محکوم کرتے ہوئے آل خیلفہ حکومت کو ڈکٹیٹر کا نام دیا اور کہا : انسانی حقوق کے دعویدار سوریہ میں دھشت گرد بھیجتے ہیں تاکہ قتل اور دھمکوں کے ذریعہ بشار اسد کی حکومت گراسکیں۔

انہوں نے عالمی سامراجیت اور ان کی پٹھووں کی حکومتوں سے ملتوں کی نجات کی تمنا کی۔

.......

/169