ابنا: خبروں کے مطابق بڑي تعداد ميں سعودي خواتين نے اپنے بچوں کے ہمراہ دارالحکومت رياض اور البريدہ شہر ميں مظاہرے کئے اور حکومت مخالف نعرے لگا کر اپنے رشتہ داروں کي رہائي کا مطالبہ کيا جنھيں بقول ان کے کسي جرم کے بغير قيد ميں رکھا جارہا ہے اور وکيل کرنے کي بھي اجازت نہيں ہے
سڑکوں پر حکومت کے خلاف مظاہروں ميں سعودي خواتين کے اس طرح کي غير معمولي شرکت ايسي حالت ميں ہے کہ سعودي پوليس نے اس سے پہلے مظاہرے ميں شرکت کرنے کے جرم ميں بہت سي خواتين کو گرفتار کرليا ہے
- خواتين اپنے ہاتھوں ميں ايسے پلي کارڈ بھي اٹھائے ہوئي تھيں جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے
- دريں اثناء سعودي عرب کي انساني حقوق کي تنظيم حسم نے اپني تازہ ترين رپورٹ ميں کہا ہے کہ سعودي حکومت کي جيلوں ميں بند خواتين کو ايذائيں دي جاتي ہيں اور ان کے ساتھ جنسي زيادتي کي بھي اطلاعات موصول ہوئي ہيں
- اس رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ سياسي قيديوں کو بھي سخت ايذائي دي جارہي ہيں
- سعودي عرب کي انساني حقوق کي تنظيم حسم نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ وہ سياسي قيديوں اور جيلوں ميں بند خواتين کو دي جانےوالي ايذاؤں پر اپني تشويش کا اظہار کرتي ہے اور سعودي وزارت داخلہ کے اس طرح کے اقدامات کے خلاف وہ قانوني چارہ جوئي بھي کرے گي
- سعودي عرب ميں گذشتہ دو برس سے حکومت کي پاليسيوں کے خلاف عوامي مظاہرے پر امن انداز ميں جاري ہيں جن کے دوران سيکورٹي فورس نے دسيوں سعودي شہريوں کو شہيد اور زخمي کرديا ہے
- سعودي عوام ملک سے تفريق آميز پاليسيوں کے خاتمے اور جمہوري اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہيں.
.......
/169