7 فروری 2013 - 20:30

تیونس مشتعل جوانوں نے پولیس چوکی کو آگ لگا دی پولیس نے حملہ کرنے والوں پر آنسوں گیس چھوڑے لیکن انہیں منتشر کرنے پر کامیاب نہیں ہوئے۔

ابنا: تیونس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک کے جنوب مغربی شہر قفصہ کی النور کالونی میں مشتعل نوجواںوں سے پولیس چوکی کو آگ لگا دی۔ پولیس نے تھانے پر حملہ کرنے والے دسیوں نوجوانوں پر اشک آور گیس کے گولے فائر کئے لیکن وہ انہیں منتشر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ادھر تیونس کی لیبر یونین نے اپوزیشن رہنما شکری بلعید کے قتل کے خلاف جمعہ کے روز ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد تعلیمی ادارے گزشتہ دو دنوں سے بند ہیں۔ تیونس لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری قاسم عفیہ نے بتایا کہ ملکی معاملات پر حکومت کی گرفتار انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔ شکری بلعید کی نماز جنازہ جمعہ کو ادا کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر بھی پرتشدد کارروائیوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔بلعید کے خاندان اور اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کی طرف سے ان کے قتل کی ذمہ داری حکمران اسلام پسند جماعت النھضت پر عائد کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں تیونس کے وزیر اعظم تیونس کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ’جس قدر جلدی ممکن‘ ہوا وہ ٹیکنو کریٹس کی نئی حکومت تشکیل دے دیں گے۔ تاہم حکمران جماعت نے اس تجویز کو رد کر دیا ہے۔تیونس میں حکمران اسلام پسند جماعت النھضت نے وزیر اعظم حمادی جبالی کی طرف سے موجودہ حکومت کو برطرف کر کے ٹیکنو کریٹس کی ایک عبوری حکومت قائم کر نے کی تجویز یہ کہتے ہوئے رد کر دی کہ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں مشاورت نہیں کی تھی۔ وزیر اعظم حمادی جبالی کے مطابق نئی حکومت انتخابات کی تیاری کے تناظر میں تشکیل دی جائے۔النھضت پارٹی کے نائب صدر عبدالحامد جلاسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جبالی نے تیونس حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کرنے سے قبل پارٹی کی رائے دریافت نہیں کی تھی۔ جلاسی نے کہا کہ تیونس کو اس وقت ایک سیاسی حکومت کی ضرورت ہے اور النھضت کی طرف سے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مخلوط حکومت قائم کرنے سے متعلق مشاورت جاری رکھی جائے گی۔