7 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اسلام عالمی دین اور پوری انسانیت کے لئے ہے کیونکہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔

ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آج دنیا اور مشرق وسطی کا علاقہ تاریخ کے خطرناک ترین دور اور ایک بڑی تبدیلی کے قریب ہے کہا کہ بڑے چیلنجز اور اہم مواقع درپیش ہیں اور حتمی طور پر ان اہم اور سرنوشت ساز حالات کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ صدر مملکت احمدی نژاد نے اس بات پر تاکید کے ساتھہ کہ عالم اسلام میں باہمی اتحاد و وحدت کے لئے کوشش کی ضرورت ہے کہا کہ آج اتحاد، حکومتوں اور قوموں کی اہم ترین ضرورت ہے کہ جسے مشترکہ نکات پر تاکید کے ساتھہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے وضاحت کی کہ معمولی اور جزئی قومی و مذہبی اختلافات پر اصرار، بھائیوں اور بہنوں کو بنیادی قانونی حقوق ،آزادی و خودمختاری ، کرامت ،عدل وانصاف اور ترقی وپیشرفت سے دور کردینگے اور جو قوّتیں اس قسم کے روّیوں کو پروان چڑھاتی ہیں اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلاتی ہیں ، انسانیت کی دوست و ہمدرد نہیں ہیں ۔ ایران کے صدر نے،غربت ، امتیازی سلوک ، بین الاقوامی تعلقات میں توہین آمیز رویّے ، تسلط پسندی ، آزاد و خود مختارقوموں کی دولت و ثروت پر منظم طریقے سے ڈاکہ ڈالنے اور آزاد و خود مختارقوموں کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں روڑے اٹکانے کو اسلامی ملکوں کے مشترکہ چیلنجز قرار دیا ۔صدر مملکت احمدی نژاد نے کہا کہ دسیوں اور سیکڑوں سال کا عرصہ ہوچکا ہے کہ صہیونی اور امریکی حکمراں اور اس ملک کے مغربی اتحادی کہ جو ماضی کے تسلط پسند اور سامراج بھی ہیں ، آزاد و خود مختار ملکوں کی ترقی و پیشرفت کے مخالف ہیں ۔ صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ انسانی معاشروں کی بڑی مشکلات ، تسلط پسندوں اور سامراجی دشمنوں کی مداخلتوں کا نتیجہ ہیں تاکید کے ساتھہ کہا کہ دنیا کےجس کونے میں بھی ظلم ، غربت اور امتیازی سلوک موجود ہے ، وہاں مغربی کردار روشن نظر آتا ہے کیونکہ وہ تسلط پسندی کے حوالے سے کسی بھی حد و مرز کے قائل نہیں ہے اور اس کا مقصد تمام ذرائع اورسرزمینوں پر مکمل تسلط کرنا ہوتا ہے ۔صدر مملکت احمدی نژاد نے اسی طرح کہا کہ افسوس کے ساتھہ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سی اسلامی حکومتیں ، آج  دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہیں اور مسلمان قوموں اور حکومتوں کےدرمیان داخلی اختلافات پھیلانے میں دشمنوں کے آلۂ کار ہونے کا کردار ادا کررہی ہیں ۔