3 فروری 2013 - 20:30

امریکہ اور سعودی عرب کےدرمیان فوجی تعاون اپنےعروج پر ہے تازہ ترین رپورٹوں کےمطابق امریکہ کی ایک فوجی کمپنی کی برانچ سعودی عرب میں قائم ہوئی ہے۔

ابنا: امریکی اورسعودی ذرائع کےحوالےسے رپورٹ ملی ہے کہ امریکی حکام اورسعودی بادشاہ کی منظوری سےامریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹین کےایک شعبےنےاتوارسےاپنی سرگرمیاں سعودی عرب میں شروع کردی ہیں۔دنیامیں فوجی طیارے اورہیلی کاپٹربنانےوالی اس کمپنی نےایسےعالم میں سعودی عرب میں اپناکام شروع کیا ہے کہ امریکہ نےابھی کچہ ہی دنوں پہلےسعودی عرب کوجدیدترین جنگی طیارےبیچنےکےلئےکئی ارب ڈالر کےمعاہدےپردستخط کئےتھے۔سعودی ذرائع نے اس کامقصد،شاہ عبدالعزیزسائنس وٹیکنالوجی کےادارے اورامریکہ کی لاک ہیڈ مارٹین کمپنی کےدرمیان تعاون میں بڑھانا قراردیاہے۔لاک ہیڈ مارٹین نے جنگی طیارےاوراس سےمتعلق سازوسامان کی کےتناظر میں اعلان کیاتھاکہ سعودی عرب نے گذشتہ دوبرسوں کےدوران چونتیس ارب ڈالرکےاسلحےکی خریداری کی  ہے۔عرب ممالک کےہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ ایسےعالم میں جاری ہےکہ یہ ملک بڑھتی ہوئی غربت اوربےروزگاری کاشکار ہے اوراس عمل کےجارےرہنےکی وجہ سےگذشتہ دوبرس میں ملک کےمختلف حصوں میں مظاہرےہوتےرہے ہيں۔درحقیقت گذشتہ پچاس برسوں سےسعودی عرب کاکوئي بیرونی دشمن نہيں ہے اس کےباوجود اس نے ساٹھ ارب ڈالےسےزیادہ کےاسلحوں کی خریداری کی ہے۔کہاجارہا ہےکہ سعودی فوج کےلئے خریدے جانےوالے زيادہ تراسلحے نہ صرف ضروری کارکردگی کےحامل نہيں ہيں بلکہ ان کی حفاظت اور سروسز پر اربوں ڈالرکاخرچ آتاہے۔رپورٹوں کےمطابق گذشتہ دوبرسوں میں امریکی اوریورپی کمپنیوں کےدرمیان خلیج فارس کےعرب ممالک کوہتھیاربیچنےکےسلسلے میں زبردست مقابلہ ہےاورموجودہ اعدادوشمارسےپتہ چلتاہےکہ جولائی دوہزارگیارہ سےجولائی دوہزاربارہ تک کےدوران خلیج فارس کےممالک نےغیرمعمولی اندازميں بڑےپیمانےپرہتھیار خریدے ہيں۔سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ علاقےکےعرب ممالک کی جانب سےہتھیاروں کی خریداری، اقتصادی بحران کاشکارمغرب اورامریکہ کی ہتھیاربنانےوالی کمپنیوں کودیوالیہ ہونےسےبچاسکتی ہے۔ کیونکہ اس وقت خلیج فارس کےعرب ممالک، مغرب اورامریکہ کےتیارکردہ ہتھیاروں کےسب سےبڑےخریدار ہيں۔اس نکتےکوبھی فراموش نہيں کرناچاہئےکہ مغربی ممالک کوشش کررہے ہیں کہ بدامنی کاماحول پیداکرکے بالخصوص ایران کاخوف دلاکرخلیج فارس کےعرب ممالک سےوہ ڈالر اپنےملکوں میں واپس لےآئیں جوانھوں نےتیل کی خریداری کےلئےعربوں کودیئےہیں۔