ابنا: انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا کہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ ہوا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے گوشہ و کنار میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے ۔ اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہیلری کلینٹن کے دور میں لیبیاء میں امریکہ کا ایک سفیر بھی ہلاک ہوا ہے ۔ موجودہ عالمی صورتحال پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس وقت دنیا کو کہیں زیادہ جنگ کے خطرات لاحق ہیں اور عراق ۔ افغانستان ۔ پاکستان ۔ صومالیہ اور یمن میں اس وقت بھی امریکی فوجی، خفیہ یا اعلانیہ طور پر جنگ کی حالت میں ہیں ۔ 11/ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکیوں نے خونخواہی کے نام پر پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کیا جبکہ ان دونوں جنگوں میں امریکہ کو پہنچنے والا جانی نقصان 11/ ستمبر کے واقعات میں ہونے والے جانی نقصان سے کہیں زیادہ رہا ہے ۔ دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے بعض علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے کہ جن میں باوثوق ذرائع کے مطابق زیادہ تر عام شہری منجملہ عورتیں اور بچّے شامل ہیں یہانتکہ افغانستان میں شادی کی تقریب تک امریکی حملوں سے محفوظ نہیں رہی ہے ۔ دریں اثنا دنیا میں بدامنی پھیلانے میں امریکیوں اور ان کے آلۂ کار طالبان اور القاعدہ جیسے دہشتگرد گروہوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جیساکہ بدامنی کا دائرہ اب جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے مرکزی افریقہ تک پھیل گیا ہے اور امن کا مسئلہ فرانس کیلئے بھی ایک بہانہ بن گیا جس نے دہشتگردی کے خلاف نام نہاد مہم کے بہانے افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے مرکزی افریقہ کے غریب اسلامی ملک مالی کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ۔ اس سے قبل نیٹو نے بھی امن کے بہانے لیبیاء کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا کہ جس کے نتیجے میں امریکہ کو شہر بنغازی میں اپنے سفیر سمیت چار سفارتکاروں سے ہاتھہ دھونا پڑا ۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بدامنی اور اسی طرح عالمی اداروں کی کمزور کارکردگی کے پیش نظر صیہونی حکومت نے بھی اپنی جارحانہ کاروائیاں تیز کردیں اور غزہ کے علاوہ سوڈان اور شام کے علاقوں پر بمباری کی جبکہ اس کا یا جارحانہ اقدام عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلافورزی ہے مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ عالمی امن کے محافظ کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صیہونی حکومت کے حامی ملکوں کے اثرورسوخ کی بناء پر اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی قومی حاکمیت کی خلاف ورزی کرنے پر اس غاصب حکومت کی مذمّت میں کوئی بیان تک جاری نہیں کیا ۔ بہرحال امریکی وزارت خارجہ کے عہدے پر ہیلری کلینٹن کے دور میں دنیا میں کئی ایسی جنگیں ہوئیں اور ہزاروں افراد مارے گئے کہ جن میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر بڑی طاقتوں کا ہاتھہ رہا ہے ۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران امریکہ میں چونکہ 11/ ستمبر جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اسلئے امریکی حکام یہ سمجھہ رہے ہیں کہ عالمی امن کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے ۔
.......
/169