1 فروری 2013 - 20:30

مالي پر فرانس کے حملے کے بعد جنگ ميں شدت آگئي ہے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہيں -

ابنا: فرانس کي سرکردگي ميں مالي ميں  جاري جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اڑتيس ہزار سے زيادہ لوگ  اپنے ہي ملک ميں بے گھر ہوگئے ہيں-
بے گھر ہونے والے لوگوں کو اشيائے خوردو نوش، ايندھن اور دوسرے ضروري سازو سامان کي قلت کي سامنا ہے جس کے  سبب ہزاروں افراد کي زندگياں خطرے سے  دوچار ہيں-
بے گھر ہونے والوں کا کہنا ہے کہ اب تک جو امدادي سامان انہيں فراہم کيا جارہا ہے وہ انکا اور انکے بچوں کا پيٹ بھرنےکے لئےکافي نہيں ہے-
اس رپورٹ کے مطابق گرد و خاک کے طوفان اور تيز ہواؤں نے پناہ کي تلاش ميں ہمسايہ ملکوں کي سرحدوں کي جانب فرار کرنے والوں   کو سخت مشکلات سے دوچار  کرديا ہے-
بڑي تعداد ميں مالي کے پناہ گزين، نيجر، موريطانيہ، برکي نافاسو، اور الجزائر کے سرحدي علاقوں ميں پناہ لئے ہوئے ہيں  اور اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر نے  توقع ظاہر کي ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران جنگ کے نتيجے ميں  بے گھر ہونے والے مالي کے شہريوں کي تعداد سات لاکھ تک پہنچ جائے گي-
ادھر انساني حقوق کي عالمي تنظيم ہيومن رائٹس واچ نے فرانس کي قيادت ميں جنگ کرنے والے  مالي کے فوجي اہلکاروں کي جانب سے انتقامي کاروائيوں کي تحقيقات کرائے جانے کا مطالبہ کيا ہے-
جوہانسبرگ ميں انساني حقوق کے افريقي دفتر نے بھي فرانسيسي فوج سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ عام شہريوں کے خلاف اپنے پرتشدد اقدمات کو کم سے کم سطح پر لانے کي کوشش کرے-

دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ  نيجر اور ٹوگو کے فوجي دستے بھي فرانسيسي فوجيوں کي مدد کے لئے مالي کے شہر گے او ميں داخل ہوگئے ہيں-   اس شہر پر گزشتہ دس ماہ سے حکومت مخالفين کا قبضہ تھا ليکن گزشتہہ ہفتے فرانسيسي فوجيوں نے اس پر قبضہ کرليا ہے-حکومت مخالفين اس شہر سے چلے گئےہيں ليکن کہا جارہا ہے کہ انہوں نے شہر کے باہر مورچے بنا رکھے ہيں-
درايں اثنا اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے فرانسيسي فوجيوں کي مدد کے عالمي امن فوج مالي بھيجنے کا عنديہ ديا ہے- فرانس نے گيارہ جنوري کو شمالي علاقوں پر قبضہ کرنے والے حکومت مخالفين کي پيشقدمي روکنے کےبہانے اپنے دو ہزار تين سو فوجي مالي بھيجے تھے- امريکہ کينيڈا، برطانيہ، بيلجيئم، جرمني،  اور ڈينمارک نے مالي ميں فرانس کي فوجي کاروائي کي حمايت کي ہے-
بعض سياسي ماہرين کا کہنا ہے کہ سونے اور يورينيئم کے وسيع ذخائر  پر قبضہ کرنا اس افريقي ملک کے خلاف فرانس کي جنگ کے آغاز کي ايک وجہ ہوسکتا ہے-
مالي ميں بدامني کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب اس ملک کے صدر آمادو توماني تورے کي حکومت بائيس مارچ دوہزار گيارہ کي فوجي بغاوت کے بعد ختم ہوگئي- فوجي قيادت کا کہنا تھا کہ   شمالي علاقوں ميں شورش کرنے والوں کے خلاف  کاروائي ميں حکومت بري طرح ناکام ہوگئي تھي لہذا اس کے خلاف يہ اقدام ضروري ہوگيا تھا-

.......

/169