18 جنوری 2013 - 20:30

نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ کوئٹہ نے کہا کہ کوئٹہ سمیت پورے پاکستان کے اہل تشیع نے دھرنے دے کر استقامت کی مثال قائم کردی۔

ابنا: امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے سے انسان محبوب الہٰی قرار پاتا ہے، لہذا ہم سب کو تقویٰٰ حاصل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئیے۔ کوئٹہ سمیت پورے پاکستان کے اہل تشیع نے جس طرح دھرنا دے کر استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے مثال قائم کردی اور اس ظالم و جابر وزیراعلٰی سے نجات حاصل کی، جس کے ہاتھ ملت تشیع کے خون سے رنگین تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اللہ تعالٰی کی غائبانہ مدد کا نتیجہ ہے۔ جو ملت تشیع کی استقامت کا ثبوت ہے۔ اب اس کی برکات سے پاکستان کے تشیع میں اتفاق و اتحاد پیدا ہوا۔ دہشت گردوں کو شکست فاش ہوئی۔ جبکہ اہل بلوچستان کو ایک ظالم حکمران ٹولہ سے نجات ملی۔ دوسری طرف ملت تشیع کو وقار ملا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ملت تشیع پاکستان پرامن اور محب وطن ہے، جو اپنی استقامت کے ذریعے پرامن دھرنا دے کر خون کو تلوار پر فتح دلا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام پاکستان کی ملت تشیع اور سیاسی جماعتوں کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے وحدت کا ثبوت دیتے ہوئے کوئٹہ کے اہل تشیع کی بھرپور مدد کی، جبکہ ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر وقت کے طاغوت کو یہ بتا دیا کہ ملت تشیع کربلا کی راہی ہے۔ کبھی بھی باطل اور یزیدی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اپنے قائدین سمیت گورنر راج کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کی بلوچستان میں وازتیں ختم ہوگئی ہیں، لیکن ان کو کوئٹہ میں ملت تشیع کے خون کی نہیں اپنی کرسیوں کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیداری کیلئے سو جنازے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم اسی طرح متحد ہوکر صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو دہشتگردوں کو ہر سطح پر شکست سے دوچار کرینگے، انہوں نے کہا کہ شہداء کوئٹہ کی قربانیوں کیوجہ سے ملت تشیع کو جس طرح بیداری ملی، اس کی قدر دانی کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئیے اور منافقین کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جائے، جو ملت تشیع پاکستان کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے بہانے کی تلاش میں ہیں۔

.......

/169