اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی شیخ عبداللہ جوادی آملی نے جمعرات 17 جنوری 2013 کو قم المقدسہ میں واقع بین الاقوامی وحیانی علوم کے مرکز "اسراء" میں اپنے ہفتہ وار درس اخلاق کی ابتداء میں پاکستان میں نسل کشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے شہداء کے خاندانوں اور شیعیان پاکستان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا: پاکستان میں اس وقت پاکستان میں اس قدر بےرحمانہ قتل عام ہورہا ہے لیکن دنیا کی کوئی بھی جابر قوت اس کی مذمت نہيں کرتی۔انھوں نے انسانی حقوق کے مغربی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسانی حقوق کے تین بنیادی اصول ہیں لیکن آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا رائج مفہوم تین اصولوں پر نہيں بلکہ دو اصولوں پر استوار ہے چنانچہ اس طرح کے انسانی حقوق کو دنیا میں تو کیا ایک ملک میں بھی نافذ نہيں کیا جاسکتا۔انھوں نے کہا کہ ہر قانون کے تین بنیادی اصول "مواد"، "مبانی (اصول)" اور "منابع" (سورسز) ہوتے ہیں اور اگر کوئی شخص کوئی فقہی، قانونی یا اخلاقی کام انجام دینا چاہے تو اس کو تین بنیادی عناصر مد نظر رکھنے پڑیں گے: اول: حقوقی و قانونی مواد، دوئم) قانونی و حقوقی مواد، اور سوئم: حقوق و قوانین کے منابع۔انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ایک قانون کے لئے ایک ملک نافذ کرنے کے لئے خاص قسم کے مواد کا حامل ہونا چاہئے اور یہ کام یا تو پارلیمان کا ہے جو قانون سازی کرتی ہے یا پھر حوزات علمیہ ہے جو فروع (دین) پر بحث کرتے ہیں اور فرد بندی کرتے ہیں اور ان کا کام رسالۂ عملیہ کی تدوین پر منتج ہوتا ہے۔ وہ بزرگ بھی جو فنِ اخلاق پر کتابیں لکھتے ہیں وہ قابل نفاذ اخلاقی مواد کو جزئی اور تفصیلی طور پر بیان کرتے ہیں۔قرآن مجید کے اس مفسر نے دوسرے اصول یعنی حقوق اور قانون کے بارے میں کہا: قانونی، فقہی اور اخلاقی مواد کے ایک ہی قسم کے مبانی سے لیا جاتا ہے۔ فقہ میں ان مبانی اور اصولوں کو "اصول الفقہ" کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ پارلیمانوں میں بھی ایسا ہی ہے کہ کچھ مواد کو بعض اصولوں سے مستند کرکے تیار کرکے تیار کیا جاتا ہے جو "آئین" میں موجود ہیں؛ جیسے عدل و انصاف، حریت، استقلال، امن و آشتی، امانت اور اس قسم کے دوسرے اصول۔انھوں نے کہا: یہ دو اصول ـ یعنی مواد اور مبانی (اصول) ـ آج کے انسانی حقوق میں ہیں لیکن ان انسانی حقوق میں تیسرا اصول ـ یعنی منبع ـ موجود نہيں ہے جو درحقیقت وحی الہی ہے۔اس شیعہ مرجع تقلید نے کہا: مواد، مبانی (اصولوں) سے اخذ کئے جاتے ہیں اور بعض اصول اہم اور بعض بہت اہم اور بعض فرع اور بعض اصل ہیں؛ اہم ترین اصول "عدل" ہے اور دوسرے تمام اصول عدل کی طرف لوٹتے ہیں؛ لہذا اگر مساوات عدل کی بنیاد پر تو بہت اچھی ہے؛ امن و امان اور امانت چونکہ عدل ہے لہذا بہت خوب ہے؛ یہاں تک حق ہے۔ لیکن عدل کا مفہوم بھی بالکل شفاف ہے۔ یعنی ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر قرار دیتا ہے؛ لیکن اشیاء کا مقام کہاں ہے؟ افراد اور اشخاص کا مقام کہاں ہے؟ عدل کہتا ہے کہ اشیاء کو اشیاء کا خالق متعین کرتا ہے؛ اشخاص کے مقام کو بھی اشخاص کا خالق معین کرتا ہے۔ کیا عورت اور مرد کا مقام ایک ہے؟ کیا شراب اور سرکہ ایک ہے؟ کیا بھیڑ، بھیڑیا اور سور ایک ہیں؟ موحد (یکتا پرست) اور ملحد (دہریہ اور منکر) کے درمیان تمام تر تنازع یہیں ہے۔آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے اس کے بعد تیسرے اصول ـ یعنی قوانین کے منبع ـ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: آج کی دنیا میں رائج انسانی حقوق کی کوئی علمی اساس نہيں ہے، کیونکہ ان حقوق کو اصولوں سے اخذ کیا گیا لیکن ان اصولوں کو اپنے منبع سے ـ جو وحی الہی ہے ـ اخذ نہيں کیا گیا؛ بلکہ ان اصولوں کو بڑی طاقتوں کی خواہشات و ترجیحات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ لہذا حزب اللہ لبنان کے براداران یا غزہ کے مسلم عوام کو ـ جو اپنے وجود اور مفادات کا تحفظ اور دفاع کررہے ہیں ـ دہشت گرد کا نام دیتے ہیں! اور اب جو لوگ دفاع کو دہشت گردی کا نام دے اور مجاہد کو دہشت گرد قرار دے یعنی وہ درحقیقت عدل کو اپنی خواہش کے مطابق بیان کررہا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ الاعظم کے ایام عزا میں شیعیان پاکستان پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس قدر بےرحمانہ قتل عام کی کوئی بھی مذمت نہيں کررہا ہے؛ چنانچہ جب تک بنی نوع انسانی کا ہاتھ وحی کے مقام تک نہیں پہنچے گا اور وحیانی منبع سے بہرہ مند نہ ہوگا، اس وقت تک وہ اصولوں کی خاکہ کشی اپنی خواہش کی بنیاد پر کرے گا۔ یہی مسئلہ اخلاقی اور قانونی مسائل میں بھی ہے۔ آج کی دنیا کا انتظام و انصرام اس ابتر اور ناقص روش کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ انھوں نے دنیا کے انتظام کی "ابتر روش" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: دنیا کو ابتر روش سے چلانے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی وہ آخر کو نہيں دیکھتے اور کبھی آغاز کو نظر انداز کرتے ہیں۔ دنیا پر مسلط استکباری نظام نہ آغاز کو دیکھتا ہے ـ کہ ایک خدا بھی ہے ـ اور آخر کو بھی نہيں دیکھتا؛ کہ آخرت اور جنت اور دوزخ بھی ہے۔ عقلی کتب میں اس طرح کی جھوٹی ذکاوت اور زیرکی کے مالک کو "صاحب فتانة البتراء" (یعنی ابتر زیرکی کا مالک) قرار دیا جاتا ہے۔ فتانت بتراء کا مالک یعنی وہ جس کا ہوش و ذکاوت ابتر ہے اور وہ بیچ کو پکڑتا ہے اور اس کا جائزہ لیتا ہے لیکن اول اور آخر کو کاٹ دیتا ہے۔ آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے آخر میں کہا: پاکستان میں عزاداروں کا اس قدر وسیع قتل عام کسی صورت میں بھی توجیہ پذیر نہيں ہے؛ بعض لوگوں نے علی الاعلان کہا کہ "یہ کام ہم نے کیا ہے!" یہ اسلام کا دعوی کرنے والے گروہ بھی ان جرائم کی مذمت نہيں کرتے۔ ہمیں امید ہے کہ ایک دن بنی نوع انسان صاحب اصلی (صاحب الزمان) (عَجَّلَ اللهُ تعالی فَرَجَهُ الشَّریف) کی برکت سے اس فتانت بتراء سے چھٹکارا پائے اور حقوق مواد ـ یعنی فقہ و اخلاق ـ کو مبانی اور اصولوں سے اخذ کرے اور مبانی اور اصولوں کو منابع سے اخذ کرے۔ ......../110
17 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 382590
"آیت اللہ العظمی جوادی آملی" نے پاکستان میں مسلسل شیعہ نسل کشی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: پاکستان میں اس قدر بےرحمانہ قتل عام ہورہا ہے لیکن دنیا کی کوئی بھی جابر قوت اس کی مذمت نہيں کرتی؛ کیونکہ آج کی دنیا میں رائج "انسانی حقوق" کا مفہوم ناقص ہے اور اس کے اصول تین نہیں بلکہ دو ہیں۔