ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت انٹیلی جنس کے اعلان کے مطابق ایران کے انٹیلی جنس اور سیکوریٹی اداروں نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کے ایران مخالف نئے انٹیلی جنس منصوبے کا اصل کردار، "متھی والوک" کو ایک کاروائی کے دوران گرفتار کیا۔متھی والوک نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا کہ اسے 2009 سے امریکی سی آئی اے کی جانب سے ایران میں بڑے انٹیلی جنس پروجیکٹ پر عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ گذشتہ ایک سال کے دوران ایران میں سائنسی ترقی کے حوالے سے بہت سے اطلاعات جمع کی تھیں جنہیں پیرس میں سی آئی اے کا حوالہ کرنا چاہتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق متھی والوک کو کہا گیا تھا کہ ایران کے سائنسی حلقوں میں رسوخ کرکے اس طرح ایران میں سائنسی ترقی کے حوالے سے اطلاعات جمع کردے لیکن امریکہ کے دوسرے جاسوسوں کی طرح وہ بھی ناکام ہوکر گرفتار ہوگیا۔اس سے قبل بھی امریکی سی آئی اے کے دوجاسوس امریکی شہری اسٹیفن ریمونڈ اور جنوبی افریقہ کا شہری "اینٹونی وینڈیار" بھی مختلف طریقوں سے ایران میں جاسوسی کی تھی جو ایران کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ۔
.......
/169