14 جنوری 2013 - 20:30

پاکستان کے شورش زدہ شہرکوئٹہ میں آہوں اور سسکیوں میںشھداء کی تدفین ہوگئی ہے اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار اورفضا سوگوارتھی،لوگ گلے مل مل کر ایک دوسرے کی دلجوئی کر رہے تھے اور پیاروں کے بچھڑنے کا پرسہ دے رہے تھے / نماز جنازہ علامہ ناصر عباس جعفری نے پڑھائی۔

ابنا: کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مطالبات تسلیم ہونےکے اعلان کے بعد لاکھوں افراد نے 87 شہداء کے جلوس جنازہ میں شرکت کی۔نمازہ جنازہ علامہ ناصر عباس نے پڑھائی، نماز جنازہ میں ہزارہ قبائل کے سردار سعادت ہزارہ، کوئٹہ یکجہتی کونسل، مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علماء کونسل کے رہنماوں کے  علاوہ ہزاروں شیعیان آل محمد (ص) نے شرکت کی۔ اس موقع پر کوئٹہ کی فضا، "لبیک یا حسین(ع)"، "شھادت شھادت، سعادت سعادت" کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔کوئٹہ کے بہشت زینب (س) قبرستان میں شہداء کی تدفین ہوئی۔اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار اور فضا سوگوار تھی اورلوگ دھاڑیں مار مارکر رو رہے تھے اور اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتار رہے تھے۔جلوس جنازہ اور تدفین کے موقع پرمجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماءکونسل، جعفریہ الائنس اور تحفظ عزاداری کونسل کے رہنما بھی موجود تھے۔اس سے قبل آج صبح کوئٹہ یکجہتی کونسل کے زیراہتمام لواحقین کی جانب سے سانحہ کوئٹہ کے شہیدوں کی میتوں کے ہمراہ گذشتہ 69 گھنٹوں سے جاری دھرنا ختم کردیاگیا، جس کے بعد شرکاء نے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھالئے۔یکجہتی کونسل کے زیراہتمام دھرنا گذشتہ جمعہ کے روز تقریبا تین بجے سہ پہری کو شروع ہوا تھا جسے مطالبات کے پورا ہونے تک جاری رکھنے کا عزم کیاگیا تھا۔ مطالبات میں صوبے میں صوبائی حکومت کی برطرفی، گورنر راج کا نفاذ اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کئے جانے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے۔گذشتہ روز وزیراعظم راجہ پرویز اشرف چند وفاقی وزراء کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے اور انہوں نے صوبائی حکام سے تفصیلی بریفنگ لی اور اجلاس کے بعد شیعہ عمائدین سے بات چیت کی اس دوران وزیراعظم نے ملک کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کی جس میں شیعیان کوئٹہ کے مطالبات زیر غور آئے اور بعدازاں وزیراعظم پنجابی امام بارگاہ پہنچے جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج نافذ کرنے سمیت دیگر کئی مطالبات تسلیم کرلئے، جس کے بعد یکجہتی کونسل نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔صبح دس بجے کے قریب رہنماء مجلس وحدت مسلمین راجہ ناصر عباس نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور دھرنے کے شرکاء کو گذشتہ روز وزیراعظم سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات منظور کرلئے گئے ہیں۔ اس طرح پورے ملک میں کئی لوز سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔علمدار روڈ پر دس جنوری کو خودکش اور ریموٹ کنٹرول کے یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں 120 افرادشہید ہوئے تھے۔ لواحقین نے دہشتگردوں کی گرفتاری، صوبے میں گورنر راج کے نفاذاور کوئٹہ شہر کو فوج کےحوالے کرنے جیسےمطالبات کے ساتھ 87 میتوں کے ساتھ علمدار روڈ پر احتجاج کیا اور دھرنا دیاتھا جو ملک گیر سطح پرآج صبح تک جاری رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

بشکریہ از ریڈیو تہران