13 جنوری 2013 - 20:30

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان میں صوبائی حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایف سی کو پولیس کے مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں۔

ابنا: کوئٹہ میں علمدار روڈ پر شہداء کے لواحقین سے مذاکرات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے سانحہ کوئٹہ میں شہادتوں پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سانحہ کوئٹہ انتہائی غیر انسانی فعل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انداز اور ہر زاویئے سے اس معاملے کو دیکھنے اور تمام پارٹیز سے مشاورت کرنے کے بعد بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہزارہ برادری سے اپیل کی سانحے میں شہید ہونے والے افراد کی میتوں کی تدفین کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 31 جنوری سے پہلے متاثرین کو امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

 اسلام ٹائمز کے مطابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے علمدار پر روڈ پر شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علمدار روڈ پر شہدا کے لواحقین گذشتہ 3 روز سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ہزارہ برادری کے رہنما قیوم چنگیزی نے وزیراعظم کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 2 دہائیوں سے قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت شہداء کی تعداد 11 سو سے زائد ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہماری کمیونٹی کے 6 ہزار افراد کو بری طرح زخمی کیا گیا۔

قیوم چنگیزی نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی پر تمام مظالم وزیر اعلٰی بلوچستان کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان کے گھر کے باہر زائرین کو جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ نے اسمبلی میں کہا ہے کہ دہشتگردی میں وزراء شریک ہیں۔ ہزارہ کمیونٹی کے رہنماء نے وزیراعظم کو مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی ذمہ داری پاک فوج کے حوالے کی جائے۔ بلوچستان حکومت کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ پاک فوج کے ذریعے ٹارگٹیڈ آپریشن کیا جائے۔ میڈیا کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ ہزارہ برادری پر حملے اور شہداء کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ جاں بحۡق افراد کے لواحقین کو ملازمتیں دی جائیں۔

.......

/169