ابنا: روس کے ايک سينئر سفارتکار کا کہنا ہے کہ شام کے ساحلوں پر روس کے جنگي بحري جہازوں کي تعيناتي جو بحيرہ روم ميں انجام پائي ہے شام ميں مغربي ملکوں کي فوجي مداخلت کو روکنے کے لئے ہے۔ واضح رہے کہ روس نے پانچ جنگي بحري جہاز شام کے ساحلوں پر تعينات کرديئے ہيں جن ميں بحريہ کے سيکڑوں فوجي اور بھاري جنگي ساز وسامان ہيں۔روسي سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط بتايا کہ ماسکو کو ہميشہ شام ميں غيرملکي مداخلت کے امکان اور شام ميں مغربي ملکوں کي طرف سے دي جانے والي ہر طرح کي مدد پر تشويش رہي ہے۔دسمبر کے آخري دنوں ميں روسي فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ اپنے دس جنگي بحري جہاز بحيرہ روم اور خليج عدن ميں بھيج رہے ہيں۔انہوں نے کہا تھاکہ ان جنگي بحري جہازوں کا بحيرہ روم اور خليج عدن ميں بھيجا جانا بڑے علاقے ميں روس کي فوجي مشقوں کا ہي ايک حصہ ہے.
.......
/169