اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلادالحرمین کے شیعہ عوام نے دنیا بھر کے دوسرے ممالک کے عوام کی مانند فرزند رسول (ص) حضرت امام حسین( ع ) اور آپ (ع) کے انصار با وفا کی شہادت کا چہلم منایا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا تاہم بلادالحرمین میں بپا ہونے والے چہلم، اور دنیا کے دیگر علاقوں کے چہلم میں فرق یہ تھا کہ بلادالحرمین کے عوام نے چہلم حکومت کے خلاف مظاہرے کی شکل میں منایا۔ الشرقیہ کے شہر قطیف کے مسلمانوں نے سڑکوں پر آکر اربعین حسینی کی مناسبت سے عزاداری کی اور اشک غم بہائے اور جلوس ہائے عزا احتجاجی جلوسوں میں بدل گئے اور عزادار مظاہرین نے آل سعود کے مخالفین کی گھروں میں نظر بندی، انہیں تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنانے، جیلوں میں پابند سلاسل کرنے اور اذیت و آزار دینے کی مذمت کی۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور سیاسی قیدیوں خاص طور پر الشرقیہ کے مذہبی راہنما شیخ نمر باقر النمر کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔بلادالحرمین میں خاص طور پر 2012 کے آخری مہینوں میں اور اسی طرح 2013 کے ابتدائی ایام میں احتجاجی جلسوں جلوسوں میں ہونے والے اضافے کے پیش نظر بعض سیاسی مبصرین اور سر گرم کارکنوں و سیاستدانوں نے پیشینگوئی کی ہے کہ آل سعود کو بھی شمالی افریقہ کے زوال پاکر معزول ہونے والے آمروں جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مبصرین و راہنماؤں نے سال 2013 کو آل سعود کے لئے مزید اور بڑے بحرانوں کا سال قرار دیا ہے۔

آل سعود کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک جماعت "امۃالاسلامیہ" کے رکن شیخ محمد بن سعد آل مفرح نے اسی سلسلے میں کہا کہ آل سعود حکومت کے خلاف کئے جانے والے مظاہروں میں اضافہ اس ملک میں قریب الوقوع انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ انھوں نے صراحت سے کہا کہ سعودی حکومت سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے حوالے سے ہونے والے عوامی مظاہروں پر توجہ نہیں دے رہی ہے، جس طرح کل لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت نے عوامی مطالبات پر توجہ نہیں دی اور نتیجہ یہ ہوا کہ قذافی حکومت نیست و نابود ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بلادالحرمین کے عوام کو چاہیے کہ وہ اپنےتمام مطالبات پورے ہونے تک اپنے مظاہرے جاری رکھیں۔دریں اثناء ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ ایک 23 سالہ جواں سال سعودی شہزید کا انتقال ہوا ہے۔ سعودی شاہی عدالت نے 23 سالہ شہزادے نایف بن عبدالعزیز بن محمد بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال کا اعلان کیا تاہم شہزادے کی موت کے اسباب کی تفصیلات نہیں بتائیں۔خاندان آل سعود میں 2012 کے دوران متعدد شہزادوں کی موت واقع ہوئی جن میں سر فہرست سعودی ولیعہد نایف بن عبدالعزیز تھے۔ وہ اپنے بھائی ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کی موت کے صرف آٹھ مہینے بعد بڑھاپے اور متعدد بیماریوں کی بنا پر انتقال کرگئے اور جو آٹھ مہینوں سے بھی کم عرصے تک ولیعہدی کے منصب پر فائز رہے جس کے بعد ایک اور معمر اور بیمار شہزادے سلمان بن عبدالعزیز کو ولیعہد بنایا گیا جو کہنے والوں کے مطابق فراموشی کی بیماری (الزائمر) میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت بادشاہ کی صحت سے کچھ زیادہ بہتر نہيں ہے چنانچہ 2013 میں ان دونوں (بادشاہ اور ولیعہد) کی صحت بھی آل سعود کو درپیش اہم چیلنجوں میں سے ایک اہم چیلنج ہے اور آل سعود کے اندر پائے جانے والی اقتدار کی رسہ کشی کے پیش نظر ان دو کی موت کی صورت میں آل سعود کا استحکام مکمل طور پر رخصت ہونے اور سالوں کی بادشاہتوں کے مہینوں اور ہفتوں کی بادشاہتوں میں بدلنے کا قوی امکان ہے جس کی وجہ سے آل سعود کے قریب اور دور کے دوستوں بالخصوص اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کو شدید تشویش لاحق ہے اور اگر اجل پر بھی مغربیوں کو قابو ہوتا تو وہ ضرور آل سعود کے بوڑھے حکمرانوں پر ملک الموت کے داخلے پر پابندی لگاتے۔ بہر صورت حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں عوامی احتجاجات میں شدت آنے کے ساتھ سعودی شاہزادوں کی پے درپے اموات بھی گزشتہ سال خاندان آل سعود کا دامن پکڑی رہی تھی اور 2013 میں بڑے شہزادوں کی گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر اس تشویش میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان شہزادوں کے لئے کسی متبادل کا بندوبست کرنا بھی ممکن نہيں ہے اور یہ نہيں لگتا کہ حجاز مقدس پر بزور شمشیر قابض ہونے والے سعودی خاندان کی بادشاہت عبدالعزیز کے بیٹوں سے بعد کی نسل تک بھی منتقل ہوسکے گی اور اگر ایسا ہوا بھی عبدالعزيز کی درجنوں "جائز شادیوں سے معرض وجود میں آنے والے درجنوں شہزادوں کے ہزاروں بچوں کو راضی کرنا کارے دارد۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
بشکریہ از ریڈیو تہران