31 دسمبر 2012 - 20:30

ترکي شام کے بحران کو ہوا دينے کے ساتھ ہي عراق کي تقسيم کي سازش ميں بھي ملوث ہے-

ابنا: عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے کہا کہ: ترکي کي حکومت عراقي کردستان کے ساتھ خفيہ رابطہ کرکے ، عراق کو تقسيم کرنے کي سازش کررہي ہے - انہوں نے کہا کہ ترکي عراقي کردستان ميں مداخلت  کرکے اختلافات کو ہوا دے رہا ہے اور عراق ميں دوسرے ملکوں کي مداخلت کے لئے زمين ہموار کرنے کي کوششوں ميں  مصروف ہے - عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے اس انٹرويو ميں کہا ہے کہ ترکي کي پاليسي نے عراقي کردستان کو نابودي کے دہانے پر پہنچا ديا ہے -انہوں نے ترکي اور عراقي کردستان کے درميان خفيہ روابط اور سمجھوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ يہ خفيہ روابط اس حدتک بڑھ چکے ہيں کہ بعض ترکمن برادران نے بتايا ہے کہ ترکي نے ان سے کہا ہے کہ اس بات پر کہ کرکوک عراقي کردستان کا حصہ نہيں ہے، اعتراض نہ کريں- انہوں کہا کہ کرکوک کے بارے ميں ترکي کا موقف حيرت انگيز ہے -قابل ذکر ہے کہ شام کے بحران ميں حکومت ترکي کي مداخلت ، دہشتگردانہ کاروائيوں ميں ملوث ہونے کے الزام ميں مطلوب عراق کے نائب صدر طارق الہاشمي کو پناہ دينے اور عراق کے حوالے کرنے سے انکار نيز عراقي کردستان کے امور ميں مداخلت کے باعث بغداد اور انقرہ کے روابط  کشيدہ ہوگئے ہيں- ترکي کے وزير خارجہ احمد داؤد اوغلو کے عراق کي مرکزي حکومت سے ہماہنگي کے بغير شمالي عراق کے دورے سے اس کشيدگي ميں شدت آگئي ہے –

.......

/169