ابنا: فرانس میں مسلمان خواتین کے پردے کے خلاف قوانین میں سختی اور اسلام و مسلمانوں کے مقدسات کی توہین اس ملک میں روزمرہ کا معمول بن گیا ہے ۔فرانس میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت الجزائرہ مراکش ، تیونس اور افریقی ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین پر مشتمل ہے اور اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب شمار ہوتا ہے اس کے باوجود اس ملک میں مسلمانوں کے دین اور مقدسات کے خلاف توہین آمیز اقدامات پر حکومت خاموش رہتی ہے اور شرپسند عناصر کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔
فرانس میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں نیز اسلام و فوبیا کے خلاف سرگرم ایک ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ سنہ 2012 میں مسلمانوں کے خلاف دشمنانہ اقدامات میں گزشتہ سالوں کی نسبت بیالیس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ان اقدامات میں مسلمانوں پر حملے ، مساجد کو نذر آتش کرنے اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز لٹریچر کی اشاعت و غیرہ شامل ہیں ۔فرانس میں مسلمانوں اور اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی بہت کوششیں ہورہی ہیں ۔
فرانس کے معروف اخبار فیگارو نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سنہ 2011 میں مسلمانوں کے خلاف ایک سو تیس دشمنانہ اقدامات انجام پائے ہیں جبکہ سنہ 2012 کے پہلے دس مہینوں میں اس طرح کے اقدامات کی تعداد ایک سو پچھتر سے تجاوز کرگئی تھی۔
فرانس کے ادارے ( IFOP ) نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال فرانس میں مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ کی نفرت میں اضافہ ہواہے ۔
فرانس میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے زيادہ ہے لیکن اتنی بڑی تعداد کو فرانس کے دوسرے شہریوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہیں اور فرانس کی حکومت حتی ایک مسلمان شہری کو اپنی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگي دہنے پر تیار نہیں ہے۔
فرانس کی اسلامی کونسل کے اراکین نے کئی بار فرانس کے حکام من جملہ فرانس کے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ملک میں جاری اسلام ستیزی اور اسلام و فوبیا کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات انجام دیں ۔
مسلمانوں کی کونسل نے فرانس کے وزير اعظم ژاں مارک ایرولٹ اور صدر فرانسوا اولاند سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح فرانس میں یہود ستیزی کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے مسلمانوں کے لئے بھی اس طرح کے قوانین بنائے جائیں ۔
اسلام و فوبیا کے خلاف سرگرم سماجی ادارے اور تنظیمیں مختلف ٹی وی پروگراموں اور دیگر ذرائع سے کوشش کررہی ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف حالیہ اقدامات کے نتائج سے فرانس کی سوسائیٹی اور حکام کو خبردار کریں تا کہ مسلمانوں کے خلاف جاری دشمنانہ اقدامات میں کمی ہوسکے۔
.......
/169