30 دسمبر 2012 - 20:30

رائل نیشنل میڈل مجھے پوری عمر کی خدمت کے عوض عطا ہوا تھا / اعلان کے بعد صہیونیوں نے رائل پیلس پر شدید دباؤ ڈالا کہ تمغہ منسوخ کیا جائے/ ظاہر ہے کہ یہ ناروے میں آزادی اظہار کی کھلی پامالی ہے / جو مسلمان اسلامی اقدار کا پابند ہو وہ حکمران سسٹم کے حلقے سے خارج قرار دیا جاتا ہے اور اس کو دباؤ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، جیسا کہ اس سے پہلے بیان ہوا ایسے حال میں کہ ناروے کے عوام یورپی یونین کو نوبل انعام دیئے جانے پر سراپا احتجاج ہیں ایک دوسری بڑی رسوائی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اس وقت نمایاں ہوئی کہ جب اس ملک کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی طرف سے اس ملک کا شاہی قومی اعزاز ایک شیعہ ڈاکٹر و سماجی کارکن ڈاکٹر علی لینستاد کو دیئے جانے کا اعلان ہوا لیکن اسی بادشاہ نے یہ اعزاز اس ڈاکٹر سے تین وجوہات کی بنا پر واپس لیا: 1۔ غاصب اسرائیل کی مخالفت، 2۔ ہمجنس پرستی کی مخالفت 3۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت۔  "ڈاکٹر تروند علی لینستاد ـ Dr. Trond Ali Linstad" ناروے کے مقامی شیعہ ڈاکٹر و سماجی کارکن ہیں جنہیں نومبر 2012 ان کی انسانی خدمات کے عوض ناروے کا قومی شاہی اعزاز دیئے جانے کا اعلان ہیرالڈ پنجم کی طرف سے ہوا لیکن یہ اعزاز ان سے صہیونیت کی مخالفت، ہمجنس پرستی کی مخالفت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی بنا پر واپس لیا گیا۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے ڈاکٹر تروند علی لینستاد سے ایک خصوصی انٹرویو میں اس نادرالظہور واقعے کا جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ مصدقہ دستاویزات کے مطابق اوسلو میں پناہ گزینوں کی پوری عمر خدمت کی بنا پر ناروے کا قومی نشان انہیں مختص کیا گیا تھا لیکن جب اس کا ذرائع ابلاغ میں اعلان ہوا تو دربار شاہی پر خاص طور پر صہیونیوں کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا کہ یہ اعزاز منسوخ کیا جائے۔ انھوں نے یورپ میں "اہلیت اور صلاحیت" کے مختلف معنی کے بارے میں کہا: "وہ لوگ اس تمغے اور اعزاز کے اہل سمجھے جاتے ہیں جو حکمران نظام کے تابع ہوں اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرے چنانچہ ہر وہ مسلمان جو اسلامی اقدار کا پابند ہو وہ حکمران نظام کے حلقے سے خارج سمجھا جاتا ہے، اس کو دباؤ اور حملوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سابق اسرائیلی جلاد وزیر اعظم "مناخیم بیگن" اور امریکی صدر "بارک اوباما"، جن کو حکمران حلقوں کی حمایت حاصل ہے، وہ اس قسم کے تمغے جیت جاتے ہیں"۔اورتے ہیگن فاؤنڈیشن کے سربراہ نے مغربی حکومتوں کی جمہوریت پسندی کے دعوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جمہوریت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کو مغربی قوتیں صرف اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ان کے فائدے میں ہو۔ وہ کبھی دعوی کرتے ہیں کہ وہ "جمہوریت کے لئے لڑتے ہیں" اور کبھی "استحکام قائم کرنے" یا پھر "دوستوں کی حمایت" کے لئے۔ یہ ساری اصطلاحات بظاہر مختلف ہیں لیکن جو چیز مرکزے (Nucleus) کو تشکیل دیتی ہے وہ یہ "بڑی طاقتوں کے مفاد" کے سوا کچھ نہيں ہے"۔معزز قارئین و صارفین سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر علی لینستاد کے ابنا کو دیئے ہوئے انٹرویو کا مکمل متن مطالعہ فرمائیں:ابنا: جناب ڈاکٹر تروند علی لینستاد! ناروے کے بادشاہی محل نے نومبر 2012 کو اعلان کیا کہ آپ کی طویل المدت خدمات کے عوض آپ کو ناروے کا قومی ا‏عزاز دیا جارہا ہے۔ اس اعلان کے اسباب کیا تھے؟ڈاکٹر علی: جی ہاں! رائل میڈل ناروے کے رائل پیلس کی مصدقہ دستاویزات کے مطابق "اوسلو میں پناہ گزینوں کی پوری عمر کی خدمات" کے عوض مجھے عطا کیا گیا تھا۔ اگر میں اس کے اسباب کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہوں تو کہنا پڑے گا کہ میں اورتے ہیگن  (Urtehagen) اسلامی فاؤنڈیشن کا بانی اور سربراہ ہوں۔ بہت سی خدمات پناہ گزینوں کو اسی فاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کی گئی ہیں۔ہم طویل عرصے سے ایک سے چھ سال تک کے بچوں کو ہمہ وقت احتیاط و دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتے آئے ہیں۔ اس وقت ہماری نگرانی میں چھ مراکز بچوں کے لئے کام کرتے ہیں جن میں نرسری، چائلڈ ہوم، اور پرائمری اسکول، جن میں 300 بچوں کی گنجائش ہے۔ بہت سے بچے پناہ گزین ہیں یا پھر پناہ گزینوں کے بچے ہیں جن کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اسی حال میں چونکہ ہمارے کام کا معیار بہت اچھا ہے ناروے کے بہت سے غیر مسلم خاندان بھی اپنے بچوں کو ہمارے تعلیمی مراکز میں داخل کررہے ہیں اور ہمیں اس بات سے بہت خوشی ہے۔  نیز اوسلو کے نواح میں ہمارا ایک چلڈرن فارم ہے جس میں ہم گھوڑے، بھیڑ بکریاں، مرغیاں، لاما (لاطینی امریکی اونٹ) اور دوسرے حیوانات پالتے ہیں تا کہ بچے شہری ماحول سے دور ہوں اور قدرتی ماحول سے بھی روشناس ہوتے رہیں۔ابنا: کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آپ کی خدمات بچوں پر ہی مرکوز ہیں؟ڈاکٹر علی: نہيں! ہمارا ایک ہائی اسکول ہے جس میں پناہ گزین خاندانوں کی 80 لڑکیاں زير تعلیم ہیں اور ان میں اکثریت مسلم لڑکیوں کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ لڑکیوں کو معمول کا نصاب پڑھائیں، انہیں ناروے میں رہن سہن کے طور طریقے سکھائیں اور انہیں مسلمان کے طور پر پروان چڑھائیں؛ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ کوشش ان کی یکجہتی اور اتحاد کے اسباب فراہم کرتی ہے۔دوسری طرف سے ہمارا ایک ٹی وی چینل اور ایک ریڈیو اسٹیشن بھی ے اور اسلام اور دوسرے مسائل کے بارے میں کتب بھی چھاپتے اور شائع کرتے ہیں اور مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔اور پھر میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میرے بیماروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جن میں بہت سے بیمار پناہ گزین ہیں اور بیشتر مسلم پناہ گزین ہیں۔ چنانچہ طے یہ پایا تھا کہ مذکورہ بالا خدمات کی پاداش میں مجھے قومی تمغہ دیا جائے۔ ابنا: لیکن قصر سلطانی نے ایک عجیب اقدام کے ضمن میں اس رائل میڈل کو منسوخ کیا، اس کا کیا سبب تھا؟ڈاکٹر علی: جی ہاں! جب یہ اعزاز مجھ سے مختص کیا گیا اور اس کی خبر شائع ہوئی تو بہت شدید دباؤ ـ خاص طور پر صہیونی لابیوں کی طرف سے ـ ناروے کے شاہی دربار پر ڈالا گیا کہ یہ اعزاز منسوخ کیا جائے۔ ابنا: کیوں! کیا انہيں آپ کی یہ خدمات نظر نہيں آئیں؟ ڈاکٹر علی: انہیں در حقیقت میری خدمات اور میرے شاندار ریکارڈ سے کوئی اختلاف نہيں تھا کیونکہ ان خدمات کا انکار ممکن نہيں ہے؛ جس چیز پر انھوں نے انگلی اٹھائی وہ میری ذات یا پھر میرے سیاسی نظریات ہیں۔ ابـنا : آپ کا کونسا نظریہ اس اعزاز کی منسوخی کا سبب بنا؟ڈاکٹر علی: اس سبب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:اولاً: میں صہیونیت کی آئيڈیالوجی اور اسرائیل کی صہیونی ریاست کے خلاف ہوں؛ میں فلسطینی عوام کا حامی ہوں اور میری رائے یہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئے؛ ان پر ظلم و ستم اور انہیں ملک بدر کرنے کا سلسلہ روک دینا چاہئے اور بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کو اپنے ملک میں لوٹنے کا حق دینا چاہئے۔ ثانیاً) میں نے ہم جنس پرستی کے خلاف اپنی رائے کا بالکل معمولی انداز سے بیان کی ہے۔ ثالثاً) میں ایران کے اسلامی انقلاب اور اس کے پیشوا حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی مسلسل حمایت کرتا آیا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے سیاسی نظریات اور میرے موقف کی بنا پر مجھ پر سامی مخالف یا یہود مخالف (Anti-Semitic)  کا لیبل لگایا گیا۔ ان اقدامات کے باعث بادشاہی کونسل نے بادشاہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ میں اس اعزاز کی وصولی کے لئے "اہل" نہيں ہوں۔ چنانچہ انھوں نے وہ تمغہ مجھ سے چھین لیا جو میرا تھا اور اعزاز دینے کی تقریب کو منسوخ کیا۔ ابنا: آپ نے کہا کہ انھوں نے آپ پر سامی مخالف کے طور پر متعارف کرایا حالانکہ آپ کی رائے یہودیت کے خلاف نہيں بلکہ صہیونیت کے خلاف ہے؛ کیا ان دو مفاہیم میں کوئی فرق ہے؟ڈاکٹر علی: بالکل ہے۔ "سامی مخالفت" نہ صرف "یہود مخالفت" سے بنیادی اختلاف رکھتی بلکہ "سامی مخالفت" "یہودی مخالفت" سے بھی مختلف ہے ۔ سامی قوم یا قوم یہود کی مخالفت افراد کے ایک گروہ یا ایک خاص دین کے پیروکاروں کی مخالفت ہے جبکہ صہیونیت کی مخالفت سے مراد ایک سیاسی آئیڈیالوجی کی مخالفت ہے۔ میں سامی مخالف یا یہودی مخالف نہيں ہوں؛ لیکن جیسا کہ میں مسلسل کہتا آیا ہوں وہ یہ ہے کہ افسوس کا مقام ہے کہ آج یہودیوں میں بہت سے لوگ صہیونی ہیں حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہئے۔ صہیونی آئیڈیالوجی کا مطالعہ ہونا چاہئے اور اس کو دنیا کے مختلف معاشروں متعارف کرانا چاہئے۔ اس زمانے میں یہودی بھی "صہیونی" اور "صہیونی مخالف" یہودیوں میں بٹ گئے ہیں۔ نیز غیر یہودیوں میں بھی "صہیونیت کے حامی" اور "صہیونیت کے مخالفین" پائے جاتے ہیں۔ حتی کہ آپ کو صہیونیوں کی صفوں میں بنیاد پرست عیسائی بھی نظر آئیں گے۔ میں نے چند سال قبل ایک صہیونیت مخالف یہودی شخصیت "اسرائیل شاہک" کو ناروے آنے کی دعوت دی اور حال ہی میں میں نے صہیونیت مخالف یہودی انجمن کے "موشے ہیرش" کو دعوی دی اور میں انہیں اخبارات کے دفاتر میں لے گیا تاکہ ان کو انٹرویو دیں اور انہیں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور اس وقت بھی ان ہی جیسی شخصیات کو بلوا رہا ہوں۔ ابنا: "یہودیوں کی مخالفت" اور "صہیونیوں کی مخالفت" کے درمیان فرق کی کوئی مثال؟ڈاکٹر علی: جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اس حکومت میں Boers نامی عیسائی سفید فاموں نے دعوی کیا کہ جنوبی افریقہ ان کا ہے؛ چنانچہ انھوں نے ایک انحصاری اور محدود حکومت قائم کی اور سیاہ فاموں کے کچلنے اور ملک بدر کرنے کا آغاز کیا۔ اپارتھاید کا نظام اس علاقے میں وسیع اختلافات اور تناؤ و کشیدگی کا سرچشمہ اور پیش خیمہ ثابت ہوا اور صہیونی ریاست کی صورت حال بھی اسی حکومت سے ملتی جلتی ہے۔ بنیادی مشکل یہی ہے۔ ابنا: تمغے کے قضیئے کی طرف لوٹتے ہیں۔ ایک طرف سے ناروے کے قصر شاہ نے آپ کو اس اعزاز کے اہل نہيں سمجھا اور دوسری طرف سے ناروے کی پارلیمان نے نوبل انعام یورپی یونین کو دیا حالانکہ نہ صرف پوری دنیا کے انسان یورپی حکومت سے نالاں ہیں بلکہ خود یورپی عوام شدید ترین انداز سے ان حکومتوں کو نشانۂ تنقید بنا رہے ہیں اور انہیں اس انعام کے قابل نہيں سمجھتے چنانچہ اب ہمیں اس سوال کا سامنا ہے کہ "اہلیت" کہتے کسے ہیں؟ڈاکٹر علی: یہاں اہلیت کے بارے میں سوال درحقیقت ایک اعتقادی اور آئیڈیالوجک سوال ہے۔ درحقیقت وہ لوگ میڈل وصول کرنے کے "اہل" سمجھے جاتے ہیں جو حکمران نظام کے تابع ہوں اور اس نظام کی پسند کے مطابق کام کریں۔ حقیقتاً خدمت میڈل کی تخصیص ایک لحاظ سے ایک صادقانہ ہدف سمجھا جاتا ہے جو ملک میں ان افراد کو خراج تحسین پیش کرنے سے عبارت ہے جو اپنی زندگی کے بیشتر ایام اور پوری عمر کے دوران قابل قدر خدمت اور سماجی فعالیت انجام دے چکے ہوں؛ لیکن جس فرد کو تمغہ دیا جاتا ہے ـ تمغہ دینے والوں کی نظر میں ـ عقائد اور نظریات و موقف کے لحاظ سے بحث انگیز اور متنازعہ شخصیت کا مالک نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ ہر وہ مسلمان جو اسلامی اقدار کا پابند ہو وہ حکمران نظام کے حلقے سے خارج سمجھا جاتا ہے اور اس کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حتمی طور پر حملوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔چنانچہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم مناخیم بیگن، امریکی صدر اوباما اور یورپی یونین اور دوسرے جو نوبل انعام جیت چکے ہیں، ایسے افراد اور ادارے ہیں جو حکمران طبقے کی تائید و حمایت پاچکے ہیں۔ ابنا: