22 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامي جمہوريہ ايران کے حقيقت بياني کرنے والے سيٹ لائٹ چينلوں کي نشريات کي راہ ميں مغرب کي جانب سے رکاوٹيں ڈالنے اور پابندياں لگانے کا سلسلہ جاري ہے -

ابنا: ایران کی سیٹلائٹ نشریات کے خلاف مغرب کے امتیازی رویئے اور معاندانہ پالیسیوں کی تازہ مثال یہ ہے کہ اسپین کے ہسپا سیٹ نے جمعہ اکیس دسمبر سے پریس ٹی وی اور ہسپانوی زبان کے ہسپان  ٹی وی کی نشریات بند کردی ہیں۔ہسپا سیٹ نے یہ اقدام ایسی حالت میں انجام دیا ہے کہ امریکی کانگرس نے ایران کی آواز کو دبانے کی غرض سے ایران کے قومی نشریاتی ادارے، آئي آر آئی بی اور اس کے سربراہ عزت اللہ ضرغامی کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے ۔اسپین کے ہسپا سیٹ نے ایران  کے، انگریزی زبان کے  پریس ٹی وی اور ہسپانوی زبان کے ہسپا ٹی وی چینلوں کی نشریات ایسے عالم میں بند کی ہیں کہ ہسپان ٹی وی ایک نشریاتی ادارے کے حیثیت سے باقاعدہ اجازت نامہ لیکے اپنی نشریات کا آغاز کیا ہے اوریورپی یونین کے قانون کے مطابق اپنی ابلاغیاتی سرگرمیوں میں مشغول رہا ہے۔

ہسپانوی حکومت اور ہسپا سیٹ نے اپنے فیصلے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بتائی ہے بس یک طرفہ طور پر ایران کے ساتھ معاہدے کو منسوخ کردیا۔ جبکہ اسپین اور یورپی یونین کے قانون کے مطابق ہسپان ٹی وی نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی اس کو اس سلسلے میں کوئی نوٹس دیا گیا ہے جس میں قانون کی کسی خلاف ورزی پر انتباہ اور وارننگ دی گئی ہو کہ نشریات بند کردی جائيں گی۔آئی آر آئی بی کی عالمی سروس کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز نے اس فیصلے کو مغربی حکومتوں کی ماہیت اور حقیقت کا عکاس قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مغربی حکومتیں ایران کی ابلاغیاتی آواز کو خاموش کردینا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ابلاغیاتی اداروں کے بارے میں مغربی حکومتوں نے جو روش اختیار کی ہے وہ جنگل کے قانون اورقرون وسطی کی یاد تازہ کرتی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ آئی  آر آئی بی پر پابندی آٹھ روزہ جنگ غزہ میں ایرانی میزائلوں کے  صیہونی حکومت کے مرکز تک مار کرنے اور اس  کی شکست  کےبعد امریکی ایوان نمائندگان پر صیہونی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں لگائی گئی ہے ۔  امریکا اور یورپ کی حکومتوں نے ایسی حالت میں ایران کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں پر پابندی لگاکے ان چینلوں تک اپنے عوام کی دسترسی روکنے کی کوشش کی ہے کہ یہ چینل بین الاقوامی حالات اور تغیرات کی حقیقی رپورٹیں دنیا والوں تک پہنچانے میں مصروف رہے ہیں۔  مثال کے طور ایران کے سیٹلائٹ ٹی وی چینل  مشرق وسطی اور شمالی افریقا کی انقلابی تحریکوں کو مکمل  طور پر کوریج دیتے ہیں  اور اسی طرح عوام کو اس حقیقت سے بھی باخبر کرتے ہیں کہ  بحرین کی ظالم حکومت سمیت ان تمام حکومتوں کی جو اپنے عوام کی وحشیانہ سرکوبی میں مصروف ہیں، امریکااور مغرب کی دیگر حکومتیں کس طرح مدد کرتی ہیں۔ایران کے سیٹلائٹ نشریاتی چینلوں نے اسی کے ساتھ امریکا میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوام کی قبضہ کرو تحریک اور یورپ کے اقتصادی بحران نیز عوام دشمن اقتصادی پالیسیوں اور ان پالیسیوں کے خلاف عوام کے مظاہروں کی رپورٹیں اسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کی ہیں جس انداز میں یہ مظاہرے ہورہے ہیں اور خاص طور پر برطانیہ کے عوام کی مشکلات ، ان کے اقتصادی مسائل اور شاہی خاندان کی فضول خرچیوں سے بھی دنیا والوں کو باخبر رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہی چیز شاہی خاندان کی برہمی اور برطانیہ نیز دیگر مغربی ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے ان چینلوں پر پابندی لگائے جانے کا سبب بنی ہے ۔

.....

/169