اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ایک تیونسی نوجوان "علی القربوسی" ـ جو ایک مہینے تک "فری سیرین آرمی" نامی دہشت گرد ٹولے کے ساتھ رہنے کے بعد بھاگ کر وطن پہنچا ہے ـ نے ای ٹی وی انٹرویو میں دہشت گردوں سے اپنی علیحدگی کے اسباب و عوامل بیان کرتے ہوئے کہا:٭ میں ترکی کے راستے شام میں میں بھجوایا گیا تھا اور پھر حمص شہر میں دہشت گردوں کی صفوں میں حاضر ہوچکا تھا۔ ٭ شام میں لڑنے والے دہشت گرد اپنے غیرملکی زخمی ساتھیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم نہيں کرتے بلکہ انہيں بغیر علاج کے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ سسک سسک کر ہلاک ہوجائیں۔٭ صرف ایک کاروائی میں 124 دہشت گرد حمص میں مارے گئے جو تیونسی اور لیبیا کے رہائشی تھے۔٭ حکومت شام کے خلاف لڑنے والے کرائے کے غیرملکی دہشت گردوں میں غالب اکثریت اپنے ممالک میں عدلیہ اور پولیس کو مطلوب جرائم پیشہ افراد، جیلوں سے فرار ہونے والے مجرمین، جیلوں سے رہا کئے جانے والے سزائے موت پانے والے مجرمین، بے روزگار اور غریب نوجوانوں کی ہے جو "جہاد" کے نام سے شام میں لڑنے کے لئے آتے ہیں۔٭ شام میں لڑنے والے کرائے کے غیرملکی دہشت گردوں میں 40فیصد کا تعلق تیونس سے ہے۔٭ دہشت گرد شامی شہریوں کے گھر تباہ کردیتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہيں اور ان کی لاشوں کو جلا دیتے ہیں۔ ٭ میں نے نام نہاد فری سیرین آرمی سے علیحدگی کا فیصلہ اس لئے کیا کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہی ہے اور میں دوسروں کی طرح صرف اور صرف سعودی اور قطری نیز مغربی و اسرائیلی پراپیگنڈا مہم سے متاثر ہوکر شام پہنچا تھا۔ ٭ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھ پر حقیقت عیاں ہوئی اور ہلاکت میں پڑے بغیر اپنے ملک میں واپس لوٹ آیا۔ ریڈيو تہران کی رپورٹ: القربوسی: شام میں مغربی وعرب ملکوں کے دہشتگردوں کی انسانیت سوز جرائم شام کے دہشتگردوں سے الگ ہونے والے ایک شخص نے انکشاف کیا ہےکہ مغربی اور بعض عرب ملکوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد انسانیت سوز جرائم ڈھا رہے ہیں۔ الخبر ویب سائٹ کے مطابق علی القربوسی نے کہا ہےکہ اس نے ایک مہینے سے زیادہ شام کے دہشتگردوں کے ساتھ گذارا ہے اور اس دوران اس نے دہشتگردوں کے انسانیت سوز اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے۔ علی القربوسی نے کہا کہ دہشتگردوں کو زخمی ہونے کے بعد علاج کی سہولت نہیں دی جاتی اور مرنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ شام کی آزاد فوج نامی دہشتگرد گروہ نے حمص میں ایک سو بیس تیونسی اور لیبیائی دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشوں کو آگ لگادی اور شام کی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا جس کی سارے ذرائع ابلاغ نے تشہیر کی۔ انھوں نے کہاکہ نام نہاد آزاد فوج دیگر ملکوں کی طرف سے شام کی حکومت کےخلاف لڑ رہی ہے۔ ادھر برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ نے رپورٹ دی ہے کہ شام میں انتیس ملکوں کے دہشتگرد حکومت و ملت شام کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اس اخبار نے لکھا ہےکہ کرائے کے ایجنٹوں کے شام میں بھیجے جانے سے یہ جنگ ہمسایہ ملکوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ایک تیونسی روزنامنے نے انکشاف کیا تھا کہ تیونس میں ایک منظم نیٹ ورک تیونسی نوجوانوں کو "جہاد" کے لئے "ترکی" کے راستے "شام" بھجوانے کے لئے وسیع بھرتیوں میں مصروف ہے اور تیونس کی حکومت اس مسئلے سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تیونسی روزنامے نے لکھا ہے کہ ایک تیونسی دہشت گرد "امیۃبن محمد نورالدین" کے اہل خانہ نے اس کے دفتر سے رابطہ کرکے اس موضوع کے بارے میں اطلاع دی ہے اور اور کہا ہے کہ یہ نئی مصیبت پورے تیونس پر چھاگئی ہے۔دہشت گرد کے اہل خانہ نے بتایا: امیہ بن محمد نورالدین 25 سالہ نوجوان ہے، یونیورسٹی میں تاریخ کا طالبعلم ہے، 12 دسمبر کو گھر سے نکل کر ترک حکومت کی مدد سے شام میں دہشت گردی کے لئے گیا ہے اور ابھی تک واپس نہيں آیا ہے۔ مذکورہ اخبار نے لکھا ہے کہ مذکورہ دہشت گرد 14 دسمبر کو قانونی دستاویزات لے کر ملک سے خارج ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیونس میں دہشت گرد بھرتی کرکے انہیں ملک سے نکال کر ترکی کے راستے شام پہنچانے کے لئے ایک منظم اور با اثر نیٹ ورک موجود ہے اور تیونس کی حکومت بھی دہشت گردوں کو قانونی طور پر ملک سے نکلنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ شام میں 70 ملکوں کے دہشت گرد لڑ رہے ہیں جن میں 40 فیصد کا تعلق تیونس اور لیبیا سے ہے اور یہ جنگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جارہی ہے۔ تیونس کے آخبار نے لکھا ہے کہ تیونسی گھرانے اپنے بچوں میں وہابی تفکر کے ممکنہ فروغ سے تشویش میں مبتلا ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
20 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 374221
شام کے دہشت گردوں کی حقیقت کیا ہے؟ شام میں مسلح دہشت گردوں کی صفوں سے نکل کر اپنے ملک بھاگنے والے تیونسی نوجوان نے شام میں دہشت گردوں کے بےشرمانہ کرتوتوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ شام میں لڑنے والے کرائے کے غیرملکی دہشت گردوں میں 40 فیصد تیونس کے شہری ہیں/ شام میں غیرملکی زخمی دہشت گردوں کا علاج نہيں کیا جاتا ہے اور سسک سسک کر ہلاک ہوجاتے ہیں / انڈیپنڈنٹ: شام میں 29ملکوں کےدہشت گرد لڑ رہے ہیں۔