17 دسمبر 2012 - 20:30

سعودی بادشاہ ہی بڑھاپے اور بیماری میں مبتلا نہيں ہیں ـ جو آج کل مسلسل آئی سی یو میں موت کا انتظار نہیں کررہے بلکہ "زندگی" بسر کررہے ہيں اور وہیں سے فرمانروائی فرما رہے ہيں ـ بلکہ ان کے ولی عہد کا بھی یہی حال ہے اور ان کے وزير خارجہ کا حال ولیعہد سے بھی کہیں زیادہ قابل رحم ہے جو فالج کا حملہ سہنے کے بعد بات چیت کرنے یا اپنے ہاتھوں سے ایک نوالہ اٹھانے تک سے قاصر ہیں اب یہ فیصلہ دیکھنے والوں کو کرنا ہے کہ کیا اس حالت میں حکومت کی کرسی سے چپک کر رہنا ہوس اقتدار کی علامت ہے یا امت مسلمہ کے لئے ان کی ہمدردی کی نشانی؟

سعودی بادشاہ کی ناگفتہ بہ جسمانی حالت اب بلادالحرمین کے عوام کو اب دعائے پر آمادہ نہیں کرتی۔

یہ سعودی وزیر خارجہ ہیں جن کو ان کے مہربان ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کیک پیس کھلا رہے ہیں جبکہ ان کے ہاتھ کی حالت سے ان پر فالج کے حملے کی علامت ہے۔ اردوگان آج کل سلطنت عثمانیہ کے احیاء اور عرب دنیا پر ایک بار پھر تسلط جمانے کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کے لئے انہيں سعودی عرب کے بیمار وزير خارجہ کی تیماری کرنا پڑ رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110