اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورسز کے کمانڈر کمانڈر بریگیڈئیر جنرل امیرعلی حاجی زادہ نے کہا: دشمن ہمارے بموں اور میزائلوں سے خائف نہیں ہے بلکہ وہ ہماری عاشورائی تعلیمات سے خائف ہے جو ہم نے دوسروں کو بھی منتقل کر دی ہیں۔ انھوں نے کہا: ہم نے بحفاظت اتارے جانے والے الٹرا ماڈرن امریکی جاسوسی ڈرون RQ170 کو مکمل طور پر ڈیکوڈ کرلیا ہے اور اس کا پورا ڈیٹا اتار لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ڈرون کو شکار کرکے ایران نے اس شعبے میں دنیا کی جدیدترین ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے؛ اور دشمن کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ڈرونز کی تیاری کے سلسلے میں دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ایران کے ہاتھ لگی ہے۔امیرعلی حاجی زادہ نے سوموار کے روز شمال مشرقی شہر مشہد مقدس میں خواجہ نصیر الدین یونیورسٹی میں "کامیابی کا دن" کے عنوان سے ہونے والے پروگرام میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امریکی ڈرون RQ170 بغیر پائلٹ کے اڑنے والا جدیدترین جاسوس طیارہ ہے جو نہ صرف ریڈار کی زد میں نہيں آتا بلکہ بلکہ اس میں ہر لحاظ سے انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔انھوں نے کہا: حال ہی میں ہونے والے امریکی صدارتی صدارتی انتخابات سے قبل صہیونی حکام امریکی صدر اوباما کے پاس گئے اور ان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وہ کام چوری سے کام لے رہے ہیں؛ جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی ڈرون RQ170 ایران کے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی پر مامور تھا؛ دیکھیں ہمیں اس کام کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ جبکہ اوباما کا یہ دعوی درست نہیں ہے۔ایرانی کمانڈر نے وضاحت کی: ہم نے اس ڈورن میں موجود تمام معلومات حاصل کر لی ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ ڈرون ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جاسوسی پر مامور نہ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ممالک ایران کے ایٹمی پروگرام کو محض ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔انھوں نے اس ڈرون کو بحفاظت اتارے جانے کی کیفیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: بعض موضوعات کے بارے میں ہم کھل کر نہیں بات نہیں کرسکتے اور امریکی بھی اتنی آسانی سے نہیں سمجھ سکیں گے کہ اس ڈرون کو ہم نے کیسے شکار کیا ہے۔ امیر علی حاجی زادہ نے کہا: اس ڈرون کی ساخت اتنی نازک ہے کہ فضا میں یہ ایک لکیر کی طرح نظر آتا ہے اور یہ اس کو خصوصیات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ہی یہ ریڈار پر بھی نظر نہیں آتا؛ اس ڈرون کے نچلے حصے میں صرف اس کے ٹائر لگے ہوئے ہیں اور چونکہ ہم نے اس کو ایک صحرائی علاقے میں اتارا تھا، اس لئے اس کے ٹائروں کو نقصان پہنچا تھا، لیکن طیارے کا نچلا حصہ بالکل صحیح و سالم ہے اور یہ بات امریکی بھی بخوبی جانتے ہیں۔انھوں نے کہا: مشن کے وقت اس ڈرون کے نچلے حصے سے اس کے کیمرے باہر نکلتے ہیں اور مشن مکمل کرنے کے بعد یہ کیمرے اپنی اصل جگہ پر واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اس طیارے کے مزید حصوں اور اس کے مختلف اجزاء کی تصاویر بھی شائع کی جاسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا: دعوی کیا گیا ہے کہ گویا حزب اللہ نے جو ڈرون مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست کے خلاف استعمال کیا تھا وہ RQ170 کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر بنایا گیا تھا: کہ حزب اللہ کا بھیجا ہوا ایوب ڈرون ایرانی ساختہ ہے اور اس کو ہم نے سنہ 2002 میں تیار کیا تھا جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی 1980 کے عشرے سے ہمارے زیر استعمال ہے اور اسرائیلی ریڈار ایوب ڈرون کا سراغ لگانے سے بھی عاجز ہیں۔انھوں نے کہا: حزب اللہ نے اس ڈرون کے راستے، اس کے مقاصد و نشانوں اور اس کی موجودگی کا اعلان اپنے خاص مقاصد کی خاطر کیا تھا اور وہ مقاصد اس نے حاصل بھی کرلئے۔ حزب اللہ والے جانتے تھے کہ اس طرح ان کے ڈرون کا پتہ چل جائے گا لیکن انھوں نے زیادہ اہم مقاصد کے لئے اس کا اعلان کیا اور مقاصد بھی حاصل کرلئے۔ انھوں نے ایران کے پاس ایٹم بم کی موجودگی یا غیرموجودگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہمارا ایٹم بم سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کا مکتب ہے جس کو ہم نے منتخب کیا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ دشمن ہمارے بموں اور میزائلوں سے نہیں بلکہ ہماری عاشورائی تعلیمات خوفزدہ ہے جو ہم نے دوسروں کو بھی منتقل کر دی ہیں۔ حاجی زادہ نے بتایا: یہ جو کہا جاتا ہے کہ ایران نے امریکی ڈرون چین اور روس کے تعاون اور مدد سے شکار کیا ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی ان ممالک نے ہمیں یہ ٹیکنالوجی دی ہے، بلکہ اگر ان ممالک کے پاس اس طرح کی ٹیکنالوجی ہوتی تو وہ بھی اس کا استعمال کرتے، کیونکہ امریکہ دنیا بھر میں اس طرح کے طیاروں کے ذریعے جاسوسی کر رہا ہے۔سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورسز کے کمانڈر نے کہا: ایران کے پاس 2000 کلومیٹر سے زیادہ رینج والے میزائل بنانے کی صلاحیت ہے لیکن ہمیں 2000 کلومیٹر سے زیادہ تک کے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہمارے بیشتر اہداف علاقے کی حدود میں ہی ہیں اور ہمارا سب سے زيادہ طویل فاصلے والا ہدف صہیونی ریاست ہے۔ حال ہی میں غزہ کی اسلام مزاحمت تحریک کی طرف سے صہیونی جارحین و غاصبین کے خلاف استعمال ہونے والے فجر 5 میزائلوں کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا: یہ راکٹ ہماری زمینی فورسز کے زیر استعمال ہیں جو 75 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرسکتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو وسائل اور ٹیکنالوجی حزب اللہ کے پاس ہے وہ اپنی جدت اور پیچیدگی کے لحاظ سے فلسطینیوں کے ہتھیاروں کی نسبت کئی ہزار گنا زیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: ہم موجودہ رکاوٹوں کی وجہ سے غزہ کی زیادہ مدد نہیں کرسکے ہیں جبکہ حزب اللہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن اس حوالے سے بالکل مختلف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
ایرواسپیس کمانڈر: 2000 کلومیٹر سے زیادہ رینج والے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں / آرکیو170 ڈیکوڈ کرلیا
14 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 372342
الٹراماڈرن امریکی ڈرون مکمل طورپر ڈیکوڈ؛ 2000 کیلومیٹر سے زیادہ رینج کے میزائل کی صلاحیت رکھتے ہیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورسز کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل امیرعلی حاجی زادہ کا کہنا تھا: امریکی ڈرون (RQ170) کو مکمل طور پر ڈیکوڈ کیا گیا ہے اور اس سے پورا ڈیٹا حاصل کیا جاچکا ہے۔