24 نومبر 2012 - 20:30

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے فلسطین کی ملت اور مزاحمت تحریک کے خلاف آٹھ روزہ جنگ میں صہیونی ریاست پر فتح کی مبارکباد پیش کی ہے / ڈاکٹر احمدی نژاد نے ہفتے کے روز فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی سربراہ ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور تمام فلسطینی دھڑوں کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آٹھ روزہ جنگ نے ثابت کرکے دکھایا کہ اگر سب متحد ہوں تو عظیم ترین اہداف بھی قابل حصول ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے آج فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو کرتے ہوئے غزہ کے باشندوں، مزاحمت تحریک کے مجاہدین اور دنیا بھر کی حریت پسند اقوام کو صہیونی ریاست کے حملوں کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت اور غزہ کے باشندوں کی فتح اور کامیابی پر، مبارکباد پیش کی۔صدر مملکت نے صہیونیوں کے مقابلے میں غزہ کے باشندوں کی استقامت اور صہیونی ریاست پر ان کی دوبارہ فتح کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی اور عزت و سربلندی کا راستہ یہی ہے جس کا انتخاب آج غزہ کے باشندوں اور مزاحمت تحریک کی جماعتوں نے کیا ہے۔ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اسمعیل ہنیہ کو غزہ کے خلاف اسرائیل کی آٹھ روزہ جنگ میں اسلامی مزاحمت تحریک کی کامیابی پر ملت ایران کے کے دلی فرحت و سرور سے آگاہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حریت پسندوں کی کوششوں سے قدس شریف آزاد ہوگا اور دنیا میں قیام عدل کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔ صدر مملکت نے صہیونی حملوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور متاثرہ افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے بھی ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے کی جانے والی فلسطینی عوام کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ صہیونی ریاست کی بہیمانہ جارحیت کے مقابلے میں غزہ کے باشندوں کی ثابت قدمی اور استقامت  اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکی ہے۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے ہفتے کے روز فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی سربراہ ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور تمام فلسطینی دھڑوں کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آٹھ روزہ جنگ نے ثابت کرکے دکھایا کہ اگر سب متحد ہوں تو عظیم ترین اہداف بھی قابل حصول ہیں۔انھوں نے اس گفتگو کے دوران جہاد اسلامی اور حماس کے تعاون کے تعاون سے حاصل ہونے والی فتح کو قابل تحسین و تکریم قرار دیا اور کہا غزہ کے عوام اور مزاحمت تحریک کی اس عظیم کامیابی نے واضح کردیا کہ فلسطین کی نجات اور روئے زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا واحد راستہ یہی راستہ ہے جو فلسطینیوں نے چن لیا ہے۔ انھوں نے غزہ کے عوام اور مزاحمت تحریک کی بےمثل کامیابی اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں مزاحمت تحریک کی دانشمندانہ استقامت اور مقابلے کے سلسلے میں مبارک باد کہتے ہوئے کہا: ہم دعا کرتے ہیں کہ آپ اسی حوصلے اور جذبے کے ساتھ ملت فلسطین کے تمام اہداف و مقاصد حاصل کریں۔انھوں نے کہا: ملت ایران کے دل فلسطینی عوام اور مزاحمت تحریک کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم سب آپ کے دعاگو ہیں؛ مطمئن رہیں کہ صہیونی اپنی راہ کے اختتامی نقطے پر پہنچ چکے ہیں اور ان کے پاس فلسطینی عوام کے مسلمہ حق کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اللہ کے فضل سے قدس کی آزادی کا ہم سب مل کر مشاہدہ کریں گے۔ انھوں نے کہا: فلسطینی عوام کی استقامت اور شجاعت صہیونیوں کے مقابلے میں حالیہ عظیم کامیابی کے اصل اسباب ہیں اور ملت ایران ملت فلسطین کی برادر قوم ہے اور اخوت کا یہ رشتہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ انھوں نے کہا: آج وہ دن ہے جب سب کو فلسطینی کاز کے گرد متحد ہونا چاہئے اور فلسطین کے تمام اہداف کے حصول تک دوش بدوش جدوجہد کریں اور اللہ کے فضل سے ایسا ہی ہوگا۔ ڈاکٹر رمضان عبداللہ نے بھی جواباً صہیونی ریاست پر مزاحمت تحریک کی حالیہ فتح کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کو مبارک باد دی اور کہا: فلسطین اور غزہ کے عوام ایران کی قوم و حکومت کے شکرگزار ہیں جس نے غزہ کے عوام اور مجاہدین کی بھرپور مدد کی اور خداوند متعال کے بعد اس کامیابی میں دوسرا کردار اسلامی جمہوریہ ایران کا تھا۔انھوں نے کہا: فلسطینی مزاحمت تحریک صہیونیوں کے خلاف جدوجہد کو تمام اہداف کے حصول تک پورے اطمینان سے جاری رکھے گی؛ مزاحمت تحریک آٹھ روزہ گھمسان کی لڑائی کے بعد کامیاب و کامران ہوکر میدان جنگ سے نکلی ہے اور اللہ کے فضل سے ہمارے جانی نقصانات بہت کم تھے جبکہ ہماری کامیابی بہت عظیم تھی۔ رمضان عبداللہ نے کہا: جس طرح کہ ہم نے فوجی لڑائی میں صہیونیوں کو شکست دی مذاکرات میں بھی ہم نے ان کو غالب نہیں ہونے دیا اور مذاکرات میں ہم نے میدان جنگ سے بھی بڑی کامیابی حاصل کی اور اس سلسلے میں حماس اور جہاد اسلامی نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا جبکہ مصر نے بھی مذاکرات کے حوالے سے ہمارا ساتھ دیا۔ انھوں نے کہا: فلسطین اور قدس شریف کی مکمل آزادی تک ایرانی قوم کے دوش بدوش لڑیں گے اور ہمیں اس عظیم قوم کی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110