ابنا: ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب نے کہا ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے کارکنان شہر کراچی میں بینک ڈکیتیوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں کالعدم تحریک طالبان سے زیادہ ملوث ہیں اور سی آئی ڈی کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار راجہ عمر خطاب نے روزنامہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس قسم کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ جن کی بنا پر ہم یہ کہیں کہ کراچی کے پرانے علاقوں لیاری، کھارادر، کھڈہ مارکیٹ اور دیگر علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان کے کارکنان موجود ہیں؛ اس کے ساتھ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پاکستان بھر اور خصوصاً شہر کراچی میں شیعہ اور بریلوی اہلسنت کے قتل عام میں کالعدم لشکر جھنگوی کے کارندے ملوث ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کے بھی ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے کارندے لیاری گینگ وار کے فعال افراد کے ساتھ بھتہ خوری میں بھی ملوث ہیں اور شہر کے بڑے بڑے تاجروں اورصنعت کاروں کو بھتے کی پرچیاں دے کر بھتہ وصول کرتے ہیں؛ ہم نے ان پرچیوں پر موجود ان بھتہ خوروں کے فون نمبرز سے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں ہم دیگر ایجنسیوں کی بھی مدد لے رہے ہیں۔انہوں نے آخر میں یہ بھی کہا کے گذشتہ 3ماہ کے دوران قتل ہونے والے 70 سے زائد شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل میں بھی کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے کارندے ملوث ہیں اور ہمارے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔افسوس کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی اتحادی حکومت شہر کراچی میں ہونے والے شیعہ قتل عام میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
18 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 365903
راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ موجودہ شواہد کے مطابق کراچی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کالعدم تحریک طالبان سے زیادہ کالعدم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔