ابنا: ان خیالات کا اظہار علامہ سید جواد نقوی نے تحریک بیداری امت مصطفیٰ (ص) کی جانب سے کراچی کے تاریخی نشتر پارک میں منعقدہ اجتماع عظیم و وحدت آفرین امت مصطفیٰ (ص) کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک مولانا مرزا یوسف حسین، جماعت اسلامی پاکستان سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، اہلسنت عالم دین مولانا انعام الحق تھانوی، مولانا منور علی نقوی و دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ عوام میں بیداری نہ ہو تو زمانے کا امام (ع) بھی اکیلا ہو جاتا ہے، جب عوام میں بیداری نہ ہو تو امام علی (ع) کو حکومت سے جدا کردیا جاتا ہے، امام حسین (ع) کو شہید کیا جاتا ہے اور خانوادہ رسول (ص) کو اسیر کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنفیوزڈ ملت کبھی بھی بیدار نہیں ہوتی، دشمن سے ہوشیار نہیں ہوتی، سازشوں کو نہیں سمجھتی، اس کا مقابلہ نہیں کرتی، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں موجود ہر راہزن رہنما ملت میں موجود خرابی کا باعث ہے، جب ملت ہر راہزن شخص کو رہبر سمجھے گی تو یہ ملت میں شعور کی کمی اور بیدار نہ ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام امت کے کرنے کے ہیں اگر وہ کام ملت سیاستدانوں اور حکومت سے کرنے کو کہے گی تو اس کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ سفاک درندے اس ملت اسلامیہ کے مذہبی رہنما ہیں اور کرپٹ ترین لوگ اس ملت کے سیاسی لیڈر ہیں، جب ملت بیدار نہ ہو، ہوشیار نہ ہو، مقصد کو نہ پہچانتی ہو تو راستہ گم کردیتی ہے، اپنے رہبر کو گم کردیتی اور اپنا مقصد کھو بیٹھتی ہے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وجہ ملت میں بیداری کا نہ ہونا ہے، کنفیوزڈ ملت کا رہبر کبھی بھی ملت کو سہارا نہیں دے سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) بے شعور قوم کے ذریعے انقلاب نہیں لائے بلکہ امام خمینی (رہ) کا ساتھ دینے والی قوم باشعور تھی اور آج بھی وہ قوم اپنے رہبر کی اطاعت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ سنی کا دشمن نہیں ہے بلکہ دشمن نے ہماری غفلت سے فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ ملت میں بیداری نہیں ہے، بیدار افراد دشمن کی سازشوں کو جانتے ہیں اور اس کے تدارک کے لئے عملی کام کرتے ہیں۔علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اس سال رسول اللہ (ص) کی شان میں توہین آمیز فلم بنائی گئی جبکہ اسی سال حج کے موقع پر روضہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر لاکھوں لوگ جمع ہوئے لیکن کسی بھی شخص کے حلق سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان میں ہونے والی گستاخی کے خلاف آواز نہیں نکلی۔ ہم نے مدرسے اور مسجدیں تو بھر دیں لیکن میدان خالی چھوڑ دیا، اس ملت کو جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں ہے۔ انہوں نے تولا اور تبرا کی مختصر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تولا اور تبرا کیا ہے، تولا کے معنی ہیں لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور تبرا کے معنی ہیں مردہ باد امریکہ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ محرم نزدیک ہے سب مل کر عزاداری کا حصہ بنیں گے اور حرمت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا دفاع کرتے ہوئے سیرت زینب (سلام اللہ علیہا) پر چلتے ہوئے عزاداری کی روح کو زندہ کریں گے، یہی پاکستان کی مشکلات کا واحد حل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110