ابنا: سعودی عرب میں انسانی حقوق کی سرگرم شخصیتوں نے سنیچرکے دن سے ایک ہفتے تک قیدیوں کے خلاف آل سعودکے جرائم کاریکارڈ تیارکرنے کی مہم شروع کردی ہے ۔
سعودی عرب کی جیلوں میں بند قیدیوں کے سلسلے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظرمیں انجام پانے والے بعض بڑے جرائم میں ان کی طویل مدت گرفتاری، چارج شیٹ داخل کئے بغیران پرمقدمہ کی کاروائی، قیدیوں کے سلسلے میں حفظان صحت کے اصولوں کی بابت بے توجہی،ان پرنفسیاتی اورجذباتی دباؤ اورقیدیوں کے ابتدائی ترین حقوق کو نظر انداز کرنا شامل ہے ۔
اگرچہ سعودی وزارت داخلہ نے اب تک اس ملک کے سیاسی قیدیوں کے اعداد وشمارجاری نہيں کئے ہيں لیکن انسانی حقوق کے اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ تیس ہزارسے زیادہ سعودی شہری سیاسی سرگرمیوں کے جرم میں جیل میں ہیں۔
جوچیزسعودی جیلوں کی صورت حال کے بارے میں انسانی حقوق کی سرگرم شخصیتوں ميں حساسیت کاباعث بنی ہے وہ جیل سے باہرقیدیوں کے ساتھ آل سعودکی سیکورٹی اہلکاروں کارویہ اوراقدامات ہيں۔دوسرے لفظوں میں سعودی عوام کواپنے ملک میں معمولی انسانی حقوق بھی حاصل نہيں ہیں۔اورپوراسعودی عرب اس ملک کے عوام کے لئے ایک جیل میں تبدیل ہوگیاہے ۔
درحقیقت سعودی عرب کے تمام علاقوں میں جہاں لوگ آباد ہيں آل سعود کے حکام انسانی حقوق کوپامال کررہے ہيں۔تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی فورسس نے انسانی حقوق کوپامال کرتے ہوئے ایک سعودی فیملی کوان کے گھروں سے باہرنکال کران کی نگاہوں کے سامنے ان کاگھرڈھادیا۔
آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کے اس اقدام کی وجہ سے سعودی عرب کے سماجی چینلوں میں سعودی شہریوں نے اس کامذاق اڑاتے ہوئے لکھاکہ سعودی عرب کے بہادرسپاہیوں نے ایک سعودی شہری کواس کے گھروالوں سمیت گھرسے باہر نکال کراس کا گھر گرادیا۔
اس بنا پریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ اس ہفتے ميں سعودی جیلوں میں موجود قیدیوں کے خلاف آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کے جرائم کاریکارڈتیارکرنے کی مہم معاشرے کے دوسرے شعبوں میں انجام پانے والے جرائم کاریکارڈ تیارکئے جانے کاآغازہوسکتاہے ۔
........
/110