10 نومبر 2012 - 20:30

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے گذشتہ ہفتے برما میں مسلم کش فسادات کی نئی لہر پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے نام خط ارسال کرکے ان سے مسلمانان برما کی حالت زار کی طرف توجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ناوی پیلے نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے برمی حکومت سے تقاضا کیا ہے کہ وہ مسلمانان برما کو فوری طور پر شہریت کا حق دے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق میانمار (برما) میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی نئی لہر اٹھنے پر سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن اختری نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نیوانیتم پیلے (Navanethem Pillay) (یا نیوی پیلے) کے نام ایک خط میں ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے منصب کا فائدہ اٹھا کر اپنے ماتحت ادارے کی قوت استعمال کریں اور میانمار میں تشدد مظلوم مسلمانوں کے خلاف ہونے والی پرتشدد کاروائیوں کے خاتمے کے لئے اقدام کریں۔ سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے نیوی پیلے کے نام اپنے خط میں لکھا تھا: "افسوس ہے کہ گذشتہ تین عشروں کے دوران روہینگا مسلمانوں کو انسانی حقوق کی پامالی کے شرمناک اور قابل گرفت واقعات کا سامنا رہا؛ ان کی نسل کشی کی گئی، انہیں قتل کیا گیا، گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں عام زندگی میں برمی سیکورٹی و فوجی فورسز کی جانب سے قتل اور زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ اس ملک کی حکومت کو اقوام متحدہ کی رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہئے، بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کرنا چاہئے اور شہریوں کے ساتھ طرز سلوک کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدات، مفاہمت ناموں اور اعلامیوں کا پس رکھنا چاہئے۔ جناب اختری کے اس خط کے بعد نیوی پیلے نے برمی حکام سے تقاضا کیا کہ وہ برما میں مقیم روہینگا اقلیت کو میانمار کی شہریت دے۔انھوں نے فرانس کی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: میں میانمار کے حکام سے ـ خاص طور پر راخین کے علاقے کی صورت حال کے حوالے سے ـ متعدد تقاضے رکھتی ہوں؛ روہینگا مسلمان طویل عرصے سے شہریت کے حق سے محروم ہیں چنانچہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری سیاسی طریق کار کی ضرورت ہے۔پیلے نے کہا: میانمار میں شہریت کے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ روہینگا باشندے بھی شہریت کا حق حاصل کرسکیں اور اس مسئلے کے لئے افراد اور مذہبی اور دینی تنظیموں اور اداروں کے خلاف امتیازی سلوک، نیز ہر قسم کی امتیازی رویوں کے خلاف ایک دوٹوک سیاسی اور اخلاق موقف اختیار کرنے ضرورت ہے۔ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے میانمار کے حکام سے تقاضا کیا ہے کہ انسانی حقوق ایجنسی اور یو این ایچ سی آر کے ان کارکنوں کو فوری طور پر رہا کریں جو پانچ مہینوں سے برمی حکومت کی حراست میں ہیں۔انھوں نے کہا: اقوام متحدہ کے کارکنوں اور اپنے فرائض پر عمل کرنے والے افراد کی گرفتاری میانمار حکومت کے اصلاحات کے دعوؤں سے سازگار نظر نہیں آتی۔ دریں اثنا برما میں همچنین 10 سفارتخانه در میانمار نیز با صدور بیانیه مشترک در نایپیدائو، از مقامات این کشور خواستند تا شرایط لازم را برای تسهیل کمک‌رسانی به مسلمانان ساکن در این کشور فراهم کنند.انھوں نے میانمار کے مسلمانوں کے خلاف بودھوں کے تشدد آمیز اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ادارے راخین کے علاقے میں امدادی کاروائیوں کے لئے تیار ہیں۔میانمار کے 1982 کے آئین میں روہینگا مسلمانوں کو دیگر 135 اقلیتوں میں شمار نہیں کیا گیا ہے اور انہیں اتنا عرصہ گذرنےکے باوجود بنگلہ دیشی پناہ گزین سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110