ابنا: آل خلیفہ کی سیکوریٹی فورسز نے گزشتہ روز سترہ جزیرہ کے عوام کو نماز جمعہ کے اجتماع سے روکنے کے لئے ان پر شدید قسم کی زہریلی آنسو گیس اور دوسرے تشدد آمیز حربے استعمال کئے لیکن بحرینی عوام نے آل خلیفہ کی ان تمام غیر قانونی ، غیر انسانی اور عالمی قوانین کے سراسر خلاف اقدامات کو برداشت کرتے ہوئے نہ صرف نماز جمعہ میں بھرپور شرکت کی بلکہ نماز کے بعد آل خلیفہ کے آمرانہ اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف بھرپور احتجاج بھی کیا۔
اس احتجاج میں اگرچہ انہیں ایک سولہ سالہ نوجوان کی شہادت کا غم برداشت کرنا پڑا لیکن بحرینی عوام نے اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لئے احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آل خلیفہ کی پولیس کا دعوی ہے کہ سولہ سالہ علی راضي پولیس کے حادثے میں ہلاک ہوا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ علی راضی پولیس کے تشدد کی وجہ سے شہید ہوا ہے ۔
بحرین میں گزشتہ کچھ عرصے میں سینکڑوں افراد آل خلیفہ کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے جبکہ دوسری طرف مغرب کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان جرائم پر نہ صرف مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اوربلکہ اسکی حمایت کرکے اسکو مزید ظلم کرنے پر اکسا رہی ہیں امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب پر مشتمل برائی کی مثلث کو آل خلیفہ حکومت کا اصل حامی قرار دیا جا سکتا ہے اگر آل خلیفہ کو ان ممالک کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو ان میں بحرینی عوام کا مقابلہ کرنے کی جرات و طاقت نہیں تھی۔ یہاں پر جو بات خصوصی طور پر قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ظاہر میں زبانی کلامی اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے بحرین میں قومی آشتی کی بات کرتا ہے لیکن عملی میدان میں آل خلیفہ کو ہر طرح کے ہتھیار، خطرناک زہریلی گیس اور مظاہرین کو کچلنے کے لئے ضروری تربیت کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ بحرین میں آجتک جو بھی زہریلی گیس استعمال کی گئی ہے وہ سب کی سب امریکہ نے آل خلیفہ کی حکومت کو فراہم کی ہے ۔ بحرین کے انسانی حقوق کے سنٹر کے سربراہ باقر درویش کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں بیس افراد امریکہ کی فراہم کردہ زہریلی گیس سے جاں بحق ہوئے ہیں ۔
امریکی کانگریس کے ایک رکن ڈان بورٹن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بحرینی مظاہرین کو کچلنے کے لئے اور مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے زہریلی آنسو گیس کا استعمال درست اقدام ہے ۔
بعض مغربی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک امریکی ریاست کے نیشنل گارڈ کا خصوصی دستہ بحرین میں موجود ہے جبکہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب سے بحرین میں انقلابی تحریک تیز ہوئی ہے امریکہ اور برطانیہ کے فوجی مشیروں اور عسکری ماہرین کا بحرین میں آنا جانا روزمرہ کا معمول بن گیا ہے ۔ دوسری طرف امریکی اشاروں پر عرب امارات اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے سینکڑوں فوجی بحرین میں انقلابیوں کو کچلنے کے لئے مصروف عمل ہیں ۔ان تمام حربوں اور سازشوں کے باوجود بحرین کے عوام اپنے مطالبات کے حصول کے لئے میدان عمل میں ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں ۔بہرحال خطے کے سیاسی اور مذہبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین کے موجودہ بحران کا واحد حل ملکی نظام میں اصلاحات لانا ہے اور عوام کے عدل و انصاف پر مبنی مطالبات اور انکی احتجاجی تحریک کو تشدد اور ظلم و ستم سے ہرگز نہیں دبایا جا سکتا ہے ۔
.....
/169
اس احتجاج میں اگرچہ انہیں ایک سولہ سالہ نوجوان کی شہادت کا غم برداشت کرنا پڑا لیکن بحرینی عوام نے اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لئے احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آل خلیفہ کی پولیس کا دعوی ہے کہ سولہ سالہ علی راضي پولیس کے حادثے میں ہلاک ہوا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ علی راضی پولیس کے تشدد کی وجہ سے شہید ہوا ہے ۔
بحرین میں گزشتہ کچھ عرصے میں سینکڑوں افراد آل خلیفہ کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے جبکہ دوسری طرف مغرب کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان جرائم پر نہ صرف مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اوربلکہ اسکی حمایت کرکے اسکو مزید ظلم کرنے پر اکسا رہی ہیں امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب پر مشتمل برائی کی مثلث کو آل خلیفہ حکومت کا اصل حامی قرار دیا جا سکتا ہے اگر آل خلیفہ کو ان ممالک کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو ان میں بحرینی عوام کا مقابلہ کرنے کی جرات و طاقت نہیں تھی۔ یہاں پر جو بات خصوصی طور پر قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ظاہر میں زبانی کلامی اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے بحرین میں قومی آشتی کی بات کرتا ہے لیکن عملی میدان میں آل خلیفہ کو ہر طرح کے ہتھیار، خطرناک زہریلی گیس اور مظاہرین کو کچلنے کے لئے ضروری تربیت کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ بحرین میں آجتک جو بھی زہریلی گیس استعمال کی گئی ہے وہ سب کی سب امریکہ نے آل خلیفہ کی حکومت کو فراہم کی ہے ۔ بحرین کے انسانی حقوق کے سنٹر کے سربراہ باقر درویش کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں بیس افراد امریکہ کی فراہم کردہ زہریلی گیس سے جاں بحق ہوئے ہیں ۔
امریکی کانگریس کے ایک رکن ڈان بورٹن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بحرینی مظاہرین کو کچلنے کے لئے اور مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے زہریلی آنسو گیس کا استعمال درست اقدام ہے ۔
بعض مغربی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک امریکی ریاست کے نیشنل گارڈ کا خصوصی دستہ بحرین میں موجود ہے جبکہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب سے بحرین میں انقلابی تحریک تیز ہوئی ہے امریکہ اور برطانیہ کے فوجی مشیروں اور عسکری ماہرین کا بحرین میں آنا جانا روزمرہ کا معمول بن گیا ہے ۔ دوسری طرف امریکی اشاروں پر عرب امارات اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے سینکڑوں فوجی بحرین میں انقلابیوں کو کچلنے کے لئے مصروف عمل ہیں ۔ان تمام حربوں اور سازشوں کے باوجود بحرین کے عوام اپنے مطالبات کے حصول کے لئے میدان عمل میں ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں ۔بہرحال خطے کے سیاسی اور مذہبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین کے موجودہ بحران کا واحد حل ملکی نظام میں اصلاحات لانا ہے اور عوام کے عدل و انصاف پر مبنی مطالبات اور انکی احتجاجی تحریک کو تشدد اور ظلم و ستم سے ہرگز نہیں دبایا جا سکتا ہے ۔
.....
/169