ابنا: آئي اے اي اے کے سربراہ يوکيا امانو نے پير کے روز ، اپني سالانہ رپورٹ ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اراکين کو بتايا کہ ، ايران کي ايٹمي سرگرميوں کے سلسلے ميں ، ايران اور آئي اے اي اے کے درميان سن دو ہزار بارہ ميں مذاکرات بڑھے ہيں - اس رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ آئي اے اي اے اور ايران کے درميان مذاکرات ميں اضافے کے باوجود عملي طور پر کوئي واضح نتيجہ بر آمد نہيں ہوا ہے –واضح رہے کہ ايران اور آئي اے اي اے کے درميان مذاکرات يوکيا آمانو کے بقول اگر لا حاصل رہے ہيں تو اس کي ايک اہم وجہ ، اين پي ٹي کي بنياد پر ايٹمي انرجي سے پر امن استفادے کے ملکوں کے حقوق کو آئي اے اي اے کي جانب سے نظر انداز کرنا ہے - آئي اے اي اے کے سربراہ نے اسي طرح ، ايران کے ايٹمي انرجي کے ادارے کے سربراہ فريدون عباس کے اس بيان کو مسترد کر ديا ہے جس ميں انہوں نے کہا تھاکہ آئي اے اي اے ميں دہشت گرد اور تخريب کار دراندازي ميں کامياب ہوئے ہيں - يوکيا امانو نے پارچين سائٹ ميں ايران کي جانب سے سرگرمياں تيز کرنے کا بھي الزام عائد کيا –ياد رہے کہ ٹھوس ثبوتوں کے بنا پر حاليہ دنوں ميں مختلف دہشت گردانہ حملوں ميں شہيد ہونے والے ايراني سائنس دانوں کو ان معلومات کي بنا پر نشانہ بنايا گيا ہے جو آئي اے اي اے نے ان کے بارے ميں شائع کي تھيں اور اس ميں امريکہ ، برطانيہ اور صيہوني حکومت کا کردار رہا ہے _...../169
6 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 362853
ايٹمي انرجي کي بين الاقوامي ايجنسي کے سربراہ نے ، رواں سال ميں ايران اور ايجنسي کے درميان مذاکرات ميں اضافے کي خبر دي ہے -