اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار "القدس العربی" نے "رأی القدس" نامی کالم میں ایک تجزیئے کے ضمن میں صہیونیوں اور ان مغربی حلیفوں کی طرف سے عرب اور اسلامی ملکوں کے خلاف ہونے والے اقدامات پر عرب حکمرانوں کی طویل اور مجرمانہ خاموشی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:تل ابیب میں دہشت گردوں کے سرغنے، عرب سرزمینوں میں عرب زمین و آسمان کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ہے؛ وہ جس کو چاہیں بلا روک ٹوک اور بغیر کسی احتساب کے، قتل کردیتے ہیں کہ البتہ یہ جرائم امریکہ اور مغرب کی ترغیب اور عرب و اسلامی ممالک کی مہلک اور شرمناک خاموشی کے بل بوتے پر انجام پارہے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریبا تمام علاقائی اسلامی ممالک صہیونی، امریکی اور مغربی ارادے کے سامنے سرتسلیم خم کرچکے ہیں۔صہیونیوں کی بےلگام سرکشی، مقبوضہ فلسطین، پڑوسی ممالک اور عرب اور اسلامی ممالک میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ دہشت گردی کی صورت میں انتہا تک پہنچ گئی ہے اور حال ہی میں صہیونی طیاروں نے 1600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سوڈان کے دارالحکومت کے جنوب میں گولہ بارود کے ایک کارخانے پر بمباری کی ہے اور بمباری کے بعد اعلان کیا ہے کہ اس کارخانے میں میزائل اور ہلکے ہتھیار تیار کیا جارہے تھے اور یہ کہ یہ کارخانہ چار سال قبل ایران کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ کہ ایران اس کارخانے سے ہتھیار لے کر فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے لئے بھجواتا رہا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ: اس میں کونسی قباحت اور اخلاقی رکاوٹ ہے کہ مذکورہ بالا دو تحریکیں ایک دہشت گرد، غاصب، درندہ اور قابض و غاصب صہیونی ریاست کے خلاف لڑنے کے لئے کسی سے امداد وصول کرے؟کیا غاصب صہیونی ریاست مختلف قسم کے ہتھیار، جدید ٹیکنالوجی اور پیچیدہ اسلحہ امریکہ اور مغربی ممالک سے حاصل نہیں کررہی ہے؟کیا غاصب و قابض دہشت گرد دشمن ایران کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیم مجاہدین خلق (منافقین)، ترکی کے خلاف لڑنے والی پی کے کے، اور شام کے خلاف لڑنے والی نام نہاد فری سیرین آرمی کو ہتھیار نہيں دے رہا ہے؟ کیا عالمی سازش کے تحت قائم ہونے والے جنوبی سوڈان نامی ملک کو دہشت گرد صہیونی دشمن نے مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس نہيں کیا ہے؟ صہیونی ریاست کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ دوسروں کو ایسی چیزوں سے محروم کردے جو وہ اپنے لئے جائز سمجھتی ہے؟ عرب، مسلمان اور دنیا کے حریپ پسند، انگریزوں کی مدد سے سرزمین فلسطین کو صہیونیوں کے ہاتھوں غصب ہونے سے لے کر آج تک، عرب سرزمینوں میں اس ریاست کی مظالم اور جرائم اور درندگیوں سے بھرپور سیاہ تاریخ کو بھی بھی نہيں بھولیں گے۔ ہم مزید تھک گئے ہیں خشک اور بےروح بیانات اور اعلامیوں سے جو عرب اور اسلامی ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے جرائم کی مذمت کے سلسلے میں جاری کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلامئے عرب اور اسلامی اقوام کی صورت حال کی ترجمانی پر مبنی نہیں ہیں اور ان سے صہیونی ریاست اور اس کے حلیفوں کے خلاف مسلمانان عالم کے بغض و نفرت اور غیظ و غضب کا علاج و ازالہ نہیں ہوتا۔عرب اقوام نے خوف کا لباس اتار لیا ہے اور میدان میں اتر آئے تا کہ استبداد و مطلق العنانیت، طاغوتی تسلط، بدعنوانی، عار و ذلت اور تسلیم اور وابستگی کو اپنے تن بدن سے دھولیں اور عزت و وقار کا نیا لباس زیب تن کریں؛ تا ہم اب انہیں امریکی جبر و تسلط کے خلاف اٹھنا پڑے گا اور انہیں اس حقیقت کو یاد کرنا پڑے گا کہ صہیونیوں کی بےحد سرکشی اور طغیانی صرف اور صرف واشنگٹن کی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔امریکہ اور دہشت گرد صہیونی ریاست کبھی بھی عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کی دوستی اور مصالحت کا ارادہ نہیں رکھتے اور جو لوگ اس قسم کی کسی وہمی دوستی سے امید باندھ کر بیٹھے ہیں وہ یا تو غافل اور نادان ہیں یا پھر وہ بدنیت ہیں [اور دشمن کے دوست]۔امریکہ اور صہیونی ریاست کا اصل ہدف عربوں اور مسلمانوں کو کمزور کرنا، ان کی سرزمینوں کو تقسیم کرنا، ان کے ملکوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینا، حکومتوں اور ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف مشتعل کرنا اور ان کے درمیان دشمنی کے اسباب فراہم کرنا، ان کے قدرتی وسائل کو لوٹ لینا، ان کو غیر مستحکم کرنا اور انہیں طاقتور نہ بننے دینا، ہے تا کہ وہ ان ملکوں پر آسانی سے مسلط ہوسکیں؛ جیسا کہ انھوں نے عراق پر قبضہ کیا اور اس کو نیست و نابود کردیا اور اس کے سائنسدانوں کو دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے قتل کروایا؛ انھوں نے لیبیا کو منہدم کردیا اور اس مستقبل کو مبہم بنایا؛ انھوں نے لبنان پر حملہ کیا اور اس ملک کے مختلف فرقوں اور مذاہب کے درمیان فتنہ انگیزی کی کوشش کی؛ انھوں نے شام کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اس ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی اور بیرونی دہشت گردوں کو اس ملک کی تباہی کا ہدف دیا؛ وہ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور اس ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو ـ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کے بہانے ـ دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں؛ حالانکہ یہ دو تسلط پسند قوتیں (امریکہ اور اسرائیل) خود مختلف قسم کے ایٹمی اور وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذخائر رکھتے ہیں [اور دوسرے ملکوں کو ایٹمی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں]۔ سوڈان کے خلاف صہیونیوں کی دہشت گردانہ کاروائی، در حقیقت تمام عربوں اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت ہے اور ایران سمیت صہیونی و امریکی اطاعت سے انکاری قوتوں کے لئے ان قوتوں کے لئے اس پیغام کی حامل ہے کہ صہیونی ریاست امریکی گرین سگنل سے ان ملکوں کی تنصیبات پر بمباری کرنے کے لئے تیار ہے جنہیں تل ابیب، واشنگٹن اور مغربی ممالک اپنے مفادات اور اسٹراٹیجی کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔عرصہ دراز سے ہم عرب لیگ اور اسلامی تعاون کانفرنس ـ جو صہیونی ـ امریکی سرکشی کے سامنے بالکل بے بس ہیں ـ کے غیر مفید اور رٹے ہوئے جملوں سے تشکیل پانے والے بے روح اعلامیوں سے تنگ آکر ناامید ہوچکے ہیں؛ کاش یہ تنظیمیں کم از کم مکمل طور پر خاموشی اختیار کرتیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون میں مصروف ہیں۔ان کی طرف سے اس قسم کے بیانات اور اعلامیوں کا اجراء صرف اور صرف عوامی غیظ و غضب کم کرنے کا حربہ ہے؛ ہمارا سوال یہ ہے کہ عرب ملکوں کے کھربوں ڈالر ـ جو محرومین اور بھوک و افلاس کا شکار عوام کا پیٹ پھاڑ کر جدیدترین ہتھیاروں اور راڈاروں کی خریداری کی خاطر اور سرحدوں کی حفاظت کے بہانے ـ امریکہ اور یورپی ممالک کے حلق میں انڈیل دیئے گئے ہیں؛ اب یہ سارے ہتھیار کہاں ہیں؟ کیا مشترکہ عربی دفاع نام کے معاہدے میں سے کچھ اب بھی باقی ہے؟ [کیا یہ ہتھیار عربوں کے دفاع کے لئے خریدے گئے ہيں؟ اگر ہاں! تو عرب ممالک بے دفاع اور نہتے کیوں ہیں صہیونی ـ امریکی حملوں کے سامنے؟]۔
...............................
/110