ابنا: فلسطین پر قبضے کے بعد اسرائیل نے 1967 میں چھ روزہ جنگ کے دوران ایک اسلامی ملک شام کے انتہائی اہم علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کیا اس غاصب حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولان کے علاقے کو شام سے جدا کر کے اس کو مقبوضہ فلسطین کا حصّہ قرار دیکر اس پر غاصبانہ قبضہ کرنے کا اعلان کیا اس علاقے میں چالیس سے زائد چھوٹی بڑی بستیاں ہیں جو گزشتہ چند عشروں سے غاصب اسرائیل کے قبضے میں ہیں غاصب صیہونی حکومت جس کی ماہیت ہی تسلط پسندی اور جنگ پسندی پر استوار ہے نے اپنے منفی پروپیگنڈے اور امریکی اور یورپی حمایت سے اس پورے علاقے کو شام سے جدا کررکھا ہے ۔
غاصب اسرائیل اور شام کے درمیان گولان کی پہاڑیاں ہمیشہ ایک متنازعہ مسئلہ بنی رہی ہیں ۔گولان کی بلندیاں شام کا با قاعدہ حصّہ تھیں لیکن اسرائیل نے تمام تر بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف اس پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے بلکہ وہ اس بات کا بھی مسلسل پروپیگنڈا کردیا ہے کہ اس علاقے کا شام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
پاکستان کے معروف تجزیہ کار صفدر رضا صیہونی وزیر خارجہ کےحالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: صیہونی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان ایک بار پھر اس موضوع کو واضح کررہا ہے کہ صیہونی حکومت کسی بھی صورت میں گولان کی پہاڑیاں شام کو واپس کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی یہی وجہ ہے کہ وہ اس متنازعہ مسئلے پر کسی قسم کے مذاکرات پر بھی تیار نہیں ہے اور ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو خودکشی سے تعبیر کررہی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ نے ایسے حالات میں جولان کے علاقے سے واپسی کو غیر ممکن قرار دیا ہے کہ شام امریکی، صیہونی، یورپی اور بعض عرب ممالک کی سازشوں کے بدولت ایک شدید بحران سے دوچار ہے ۔امریکہ اور اسکے حواری شام میں دہشت گردی کا بازار گرم کرکے بشار اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں ۔ شام کے حالیہ بحران میں اسرائیل کے واضح کردار کو بھی ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اسرائیل نے جولان کے متنازعہ مسئلے کو ایک ایسے موقع پر اٹھایا ہے کہ وہ یہ محسوس کررہا ہے کہ شام کی حکومت اپنے داخلی بحران کی وجہ سے کمزور ہے لہذا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاکر جولان کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی مرضی کے مطابق حل کرنے کا مذموم ارادہ رکھتی ہے تا ہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آرہے ہیں شام کی عوام اپنے صدر بشار اسد کے ساتھ ہیں اور وہ اسرائیلی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ گولان کے علاقے سے دستبردار نہیں ہونگے بلکہ غاصب اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت کی بھی حمایت کریں کرکے خطہ میں چلنے والی صیہونی سازشوں کے سامنے بند باندھیں گے ۔
.......
/169