26 اکتوبر 2012 - 20:30

سن انیس سو اناسی میں عالمی ادارہ خوراک کی بیسویں کانفرنس میں سولہ اکتوبر کو یوم خوراک کا عالمی دن قرار دیاگیا اور سن انیس سو بانوے میں اقوام متحدہ کی جانب سے سترہ اکتوبرکو غربت کے خاتمہ کاعالمی دن قرار دیاگیا ہے ۔اگر چہ ان دونوں موضوعوں پر الگ الگ گفتگو کی جاسکتی ہے ۔چنانچہ ہم دونوں موضوعات کے درمیان پائےجانے والے تناسب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا میں غربت اور بھوک کی مشکلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ابنا:تیسرے ہزارے کا نئے خوابوں کے ساتھ آغاز ہوا۔ستمبر سن دوہزار میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سو سینتالیس ممالک کے سربراہوں کے دستخط سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی ہزارےکے پروگرام کے اعلامیہ کو منظور کیا گیا ۔اس پروگرام  میں آٹھ عالمی مقاصد کو پیش نظر رکھا گیا اوراقوام متحدہ کے رکن ممالک نے سن دوہزار پندرہ تک ان مقاصد کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔اس اعلامیہ کے پہلے مقصد کے مطابق سن دوہزار پندرہ تک دنیا میں غریب لوگوں کی تعداد گھٹ کر نصف تک پہونچنی چاہئیے ۔حالانکہ اس وعدے کے پورا ہونے میں صرف تین برس باقی رہ گئے ہیں جبکہ اس دوران دنیا میں نہ صرف غریبوں کی تعداد گھٹ کر نصف تک نہيں پہنچی ہے بلکہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذار رہی ہے ۔یعنی لوگ روزانہ ایک ڈالر چھبیس سینٹ پر اپنی زندگی گذاررہے ہیں۔ایک ارب کے قریب لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں اور ایک ارب سے زیادہ افراد غذا ئی کمی سے دوچار ہیں ۔جن میں سے اسی کروڑ افراد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں جن کی نصف آبادی بھوک کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش کی زندگی گذار رہی ہے ۔ اور بچے سنگین مشکلات سے دوچار ہیں،ترقی یافتہ دور میں سالانہ پانچ برس سے کم عمر کے سترلاکھ  زیادہ یعنی ہر گھنٹے میں بھوک کی وجہ سے ایک ہزار بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ۔شواہد وقرائن سے پتہ چلتاہے کہ دنیامیں غریب افراد سب سے زیادہ بھوک مری سے دوچار ہیں اور بھوک کی وجہ سے اپنی جانوں کو ہاتھوں سے دھو بیٹھتے ہیں ،عالمی بینک کے سروے کے مطابق آیندہ دوبرسوں میں دس کروڑ افراد غربت وافلاس میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

٭٭٭

غربت وافلاس انتہائی تکلیف دہ اور مصیبت ترین  سماجی مشکل ہےجو ہمیشہ انسانی معاشرے کے دامن گیر رہی ہے ۔مسلسل کی جانے والی جد جہد اور مختلف کوششوں کے باوجود یہ سماجی اور اقتصادی مشکل حل نہیں ہوسکی اور اس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ۔عالمی ادارہ صحت کی نظر میں غربت مہلک ترین بیماری ہے ،کیونکہ انسان کو ہر بیماری سے زیادہ غذائی کمی سے دوچار کردیتی ہے ، برائی پیدا کرتی ہے اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے ۔ہر روز صج کو ایک ارب سے زیادہ افراد سو کر اٹھتے ہیں تو انھیں اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے ،اور رات کو سوتے ہیں تو زندگی کے کم سے کم امکانات سے محروم ہوتے ہیں یہ ایک ارب افراد اس المیے کو اس کی تمام تر  نگرانی کے ساتھ لمس کرتے ہیں ۔ معمولی کھانا کھا کر سوجاتے ہیں اور اس  دردناک مصیبت کو محسوس کرتے ہیں ،مناسب غذا ہر انسان کی جسمانی توانائی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے ایک اہم ضرورت ہے اور زندگی کی ابتدائی ضروریات میں اس کا شمار ہوتاہے ۔ اسی طرح انسان کی فکری نشونما اور معاشرے میں ہوشیاری کے ساتھ زندگی گذار نے ،ترقی وپیشرفت اورتحرک کے لئے مناسب اور کافی مقدار کی ضرورت ہے ۔

حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر غذائی اشیاءکی قیمتوں میں اچھاساخاصا اضافہ ہوگیا ہے ۔ رواں سال میں گذشتہ برس کے مقابلے میں قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں جس کے متعدد اسباب بتائے جاتے ہیں اس حوالے سےغیرمناسب آب وہوا ،غلط پالیسیوں اور برآمدات کی راہ میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے  ۔غذائی اشیاء کی قیمتوں کے بڑھنے سے نہ صرف دنیا کے غریب مشکلات سے دوچا رنہیں ہوں گے بلکہ کوتاہ مدت میں ممالک کو داخلی طور پر اور درازمدت میں دنیا کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچے گا ۔ظاہر ہے کہ وہ افراد جو غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی یا کم آمدنی والے ممالک میں متوسط زندگی بسر کرتےہیں انھیں سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا ۔غذائی اشیاء کی قیمتوں میں جون سن دوہزار دس سے غذائی اشیاء میں جو اضافہ شروع ہوا ہے اس کی وجہ سے چار کروڑ چالیس لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

عزیز سامعین جیساکہ آپ جانتے ہیں دنیا میں غربت میں اضافہ کا تعلق تیسری دنیا کے ممالک سے ہے ، البتہ امریکہ اوریورپی ممالک میں بھی غریب لوگو ں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔تازہ تریں سروے کے مطابق امریکہ میں سن دوہزار دس میں بے روزگاری کی شرح پندرہ اعشاریہ ایک فیصد تھی جو سن دوہزار گیارہ میں بڑھکر پندرہ اعشاریہ سات فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ اس وقت امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ افرادغربت کی زندگی بسر کررہے ہیں ، جس کے مطابق اس وقت امریکہ میں سن انیس سو پینسٹھ سے لیکر اب تک بے روزگاری کی شرح بالا ترین حد تک پہنج چکی ہے ۔یہ اسی صورت میں ہے سن دوہزار تیرہ میں سال کے آغاز سے سماجی سہولیات میں کمی کردی جائے گی ،اور ملک میں غریبوں اورناداروں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوجائےگا ۔جرمن اخبار تھاگس اشپیگل نے جرمنی کے تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے حوالے سے لکھاہے کہ جرمنی میں سن دوہزار گیارہ میں غربتکی شرح  پندرہ  اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ گئ ہے ۔برطانیہ میں ہونے والی تازہ ترین تحقیقات  سے پتہ چلتاہے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجہ میں حتی متوسط طبقہ کے لوگ بھی حد سے زیادہ مالی مشکلات سے دوچار ہیں ۔متوسط اور کمزورگھرانے کے بہت سے افراد کی ہرمہینے کی آمدنی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں روز بروز کم ہوتی جارہی ہے ۔خیال ہے کہ موجودہ عشرے میں برطانیہ میں بیس سے پچیس فیصد بچے مکمل طور پر غربت وافلاس کے بحران سے دوچار ہوجائیں گے ۔ تعلیمی سہولیات میں شدید کمی واقع ہوئی ہے ، عام سہولیات میں کمی کے سلسلے میں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے برطانوی بچوں کو جسمانی لحاظ سے بہت سے خطرات کاسامنا کرنا پڑے گا۔

٭٭٭

بہرحال غربت کئی پہلوؤں پر مبنی ایک مسئلہ ہے جس کی شناخت کے لئے صرف ایک عامل کو سبب نہیں قراردیا جاسکتاہے ۔لیکن دنیا کی اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لئے کئی  طرح کی حکمت عملیاں موجود ہیں ۔ اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لئے غریب ملکوں میں غربت سے رفاہ کی سمت حرکت کرنے اور اور اقتصادی ،سماجی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی لانے کی ضرورت ہے ۔ جس معاشرے میں اقتصادی ترقی نہیں ہے وہ اقتصادی کمزوری کی وجہ سے سماجی اورفلاہی سہولیات فراہم نہیں کرسکتا ہے ۔ تجربہ سے پتہ چلتا ہے کہ غربت وافلاس سے مقابلے کے لئے مؤثر ترین طریقہ روزگار کافراہم کرنا ہے ۔زراعت وصنعت اور دیگر تجارتی میدانوں میں سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر تجارتی لین دین میں فعال کردار ادا کرکے  اقتصادی حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں محتلف طبقات کے درمیان  ثروت کی منصفانہ تقسیم اور اجتماعی طور پرپایا جانے والا انصاف بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ مغرب کےتوسیع پسند سامراجی ممالک کی پالیسیوں نے بھی ترقی پذیر ممالک کوسیاسی اوراقتصادی مشکلات منجملہ غربت وافلاس سے دوچار کردیا ہے ۔ لہذا غربت کی مشکلات کو دورکرنے میں ترقی پذير ممالک کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے ۔

ظاہر ہے کہ اگر مغربی ممالک جنگ اور جنگی اخراجات کے بجائے دنیا میں  زراعت کی صورت حال کو بہتر بنائیں نیز اپنے ممالک اور دنیاکے دیگرملکوں کے غریب  لوگوں کی مدد کریں تو عالمی سطح پر غربت کی شرح میں ضرور کمی واقع ہوگی ۔بطور مسلم  غریب ممالک کے ناقابل وصول قرضوں کی معاف اور جدید ٹیکنالوجی تک ان ممالک کی دسترسی کے لئے اسباب فراہم کردیئے جائیں تو غربت میں کمی آئے گی اور دنیا کے ممالک کے درمیان توازن کے قیام کے لئے مؤثر ثابت ہوگا۔ اسلام کی نظر میں غربت وفقر ایک قدرتی اور ناقابل برداشت واقعہ نہيں ہے کہ انسان اس کے سامنے اپنا سرتسلیم خم کر دے ۔اسلام نے فقر کا ہمیشہ راہ حل کی نظر سے مقابلہ کیا ہے ۔مسلمانوں کی مذھبی تہذیب میں فقر مصیبت اور تباہ کن ترین درد شمارہوتاہے ۔ پیغمبر اسلام اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اقوال وارشادات میں فقر کی مذمت کی گئي ہے اور اس کے برے نتائج سے لوگوں کو خبر دار کیا گیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام غربت وافلاس کے تلخ وناگوار ذائقہ کے بارے میں لقمان حکیم کی اس بیان کی یاد دھانی کراتے ہیں جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے فرمایاہے کہ میں نے دنیا کی تمام تلخیوں کو چکھا ہے لیکن غربت وافلاس کی طرح کوئی بھی شے مجھے تلخ وناگوار محسوس نہیں ہوئی ۔اسلام کی نگاہ میں سماجی تعلقات میں عدم توازن زیادہ خواہی اور مالداروں کے ہاتھوں میں ثروت کا ذخیرہ  معاشرے میں غربت وافلاس کے اضافے میں اہم ترین سبب ہے ۔امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی مالدار نہیں ہوتا مگر یہ کہ کسی کا حق ضائع نہ ہوا ہو اسلام غربت کے خاتمے کےمقابلے کے لئے معاشرے میں انصاف کے قیام کے ساتھ لوگوں  میں تعاون اور بخشش کے حوصلے کی ترویج کرتا ہے تاکہ غریبوں اور مالداروں کے درمیان فاصلے میں کمی واقع ہو ۔خمس ،زکات اور انفاق معاشرے کے مختلف لوگوں کے درمیان موجود طبقاتی فاصلے کو کم کرنے میں مؤثر ومفید قدم ہے ۔    .....

/169