ابنا: علاء الدین بروجردی نے عید قربان کے موقع پر مسلح گروہوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ہر مسلح گروہ کے کسی نہ کسی ملک سے روابط ہیں اور ان گروہوں کی جانب سے جنگ بندی کی مخالفت کی اصل وجہ ان کے حامی ممالک کی مخالفت ہے۔ بروجردی نے مزید کہا کہ یوں لگ رہا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کی مخالفت کے سبب انکے حمایت یافتہ گروپس بھی شام میں جنگ بندی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ شام میں جنگ بندی سے حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ادھر شام میں عیدالاضحٰی کے دوران عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ شامی علاقے حلب اور ترک سرحد سے جڑا سرحدی علاقہ ہیوی مشین گن اور مارٹر گولوں سے گونج اٹھا۔ شام میں عیدالاضحٰی کے موقع پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اطلاعات ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ روز دھماکہ ہوا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی، ویڈیو میں تباہی دکھائی گئی ہے۔ جب کہ حلب اور مغربی علاقوں میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جھڑپیں ہوئیں۔ جب کہ ترک سرحد سے جڑے شامی علاقے حرم میں ہیوی مشین گن اور مارٹر گولوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سنہ 2011 سے، جب سے شام میں بحران شروع ہوا ہے مغرب اور اس کے علاقائی اتحادی ممالک،شام کے صدر بشار اسد کے مخالفین کے ساتھہ ہر طرح کا تعاون کررہے ہیں اور یہ ممالک،شام میں تشّدد کا خاتمہ کرنے کیلئے سیاسی راہ حل آزمانے کے بجائے شروع سے ہی، اس بحران کا واحد حل،شام کے اقتدار سے بشار اسد کی علیحدگی قرار دیتے رہے ہیں ۔ مغربی ممالک، دمشق پر دباؤ بڑھانے کیلئے ابتک سلامتی کونسل میں تین قراردادیں بھی پیش کرچکے ہیں جو روس اور چین کی مخالفت کی بناء پر منظور نہیں ہوسکی ہیں ۔ یکطرفہ پابندیوں کا نفاذ اور شام کے حکومت مخالفین کی حمایت بھی ان اقدامات میں شامل ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے شام کا محاصرہ تنگ کرنے کیلئے انجام دیئے ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کے حوالے سے مغربی ملکوں کے یکطرفہ اقدامات سے اس ملک کا بحران حل کرنے سے متعلق کوششوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔
اس سے قبل اپریل کے مہینے میں بھی شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے اس وقت کے خصوصی ایلچی کوفی عنّان کے چھے نکاتی امن منصوبے کی بنیاد پر شام میں فائر بندی کا نفاذ عمل میں آيا تھا مگر یہ فائر بندی عملی طور پر کامیاب ثابت نہ ہوسکی اور تشّدد کا سلسلہ پھر شروع ہوگیاایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر وہی قوتیں جنگ بندی کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں اسی لئے تو ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے کہا ہے کہ شام میں حکومت کے اکثر مخالفین جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن قطر اور سعودی عرب جنگ بندی کے خلاف ہیں ان ممالک کے پیچھے بھی امریکہ ہے جو اسرائیل کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ بشار اسد کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے.
.......
/169