اگر ہر قربانی کے وقت یہی اعلی ہدف پیش نظر ہو تو قربانی قبول ہوتی ہے اور اس کے فوائد و اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں ورنہ یہی قربانی جان' مال' عزت اور وقت کا ضیاع تصور ہوسکتی ہے۔ اگرچہ قربانی کا مظہر انسان کے فطری اور معاشرتی تقاضوں کے پیش نظر کوئی نہ کوئی رسم ہی ہوتی ہے لیکن یہ رسوم اصل ہدف نہیں ہوتیں بلکہ قربانی کے اہداف کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں لہذا قربانی اور اس جیسے دیگر صالح اعمال کو فقط رسموں تک محدود کردینے سے اصل ہدف اوجھل ہوجاتا ہے جس سے اس قربانی کی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ خلقت آدم سے لے کر اب تک انبیاء و رسل ' ائمہ اور خاصان خدا نے احکام خداوندی کی بجا آوری' شریعت اور دین کے نفاذ' نظریے کی صداقت اور موقف کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مختلف انداز سے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حضرت آدم کی زمین پر تشریف آوری ' حضرت نوح کا طوفان سے مقابلہ' حضرت موسی کا کوہ طور پر امتحان' حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کی جدائی' حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنا' حضرت عیسی کا مصلوب ہونا' خاتم الانبیاء ۖ کا کفار سے متعدد جنگیں کرنا اور ان کے ظلم و ستم سہنا' امیر المومنین حضرت علی کا طویل عرصہ خاموش رہنا اور خلافت کے زمانہ میں متعدد چیلنجز کا سامناکرنا' حضرت امام حسین کا میدان کربلا میں قربان ہونا غرض یہ کہ تمام ائمہ کے بعد فقہاء ' علمائ' مجتہدین اور حق کا پرچار کرنے والے تمام انسان قربانی دیتے چلے آرہے ہیں۔ انہی قربانیوں میں سے ایک قربانی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہے۔ جو رہتی دنیا تک مثال بن گئی اور اسلامی شریعت میں اس قربانی کی یاد عید الاضحی کی شکل میں منائی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ عید الاضحی کے دن نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس عظیم قربانی کی یاد میں جانور قربانی کرنے کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جانوروں کی قربانی تو محض ایک علامت ہے جس سے اس بات کا درس ملتا ہے کہ اگر خدا کی راہ میں ہمیں اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو قربان کرنا پڑے تو اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور گریز سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اسے احکامات خداوندی کی پیروی اور خدا کے نظام کے استحکام کا ذریعہ سمجھ کر ادا کردیا جائے ۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل کی یہ لازوال قربانی انسانیت اور اسلام سے وابستہ لوگوں کے لئے اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے تاکہ وہ اپنے مفادات' ذاتی خواہشات' غلطیوں' کوتاہیو ں اور خطائوں کو قربان کرنے کے بعد جانور کی قربانی کریں اور ان کے سامنے یہ نظریہ نہ ہو کہ خدا کے حضور ان کے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون پہنچتا ہے بلکہ صدق و یقین سے یہ بات ان کے مدنظر ہونا چاہیے کہ قربانی تو ایک ذریعہ ہے لیکن اصل میں ان کا ہدف ان کی نیت' ان کا ایثار' خلوص اور جذبہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے لہذا انہیں عید الاضحی مناتے وقت اور قربانی کرتے وقت اس خاص امر کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاء کرام' ائمہ معصومین 'شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے ۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل' بحرانوں' چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔
.....
/169
انہوں نے کہا کہ خلقت آدم سے لے کر اب تک انبیاء و رسل ' ائمہ اور خاصان خدا نے احکام خداوندی کی بجا آوری' شریعت اور دین کے نفاذ' نظریے کی صداقت اور موقف کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مختلف انداز سے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حضرت آدم کی زمین پر تشریف آوری ' حضرت نوح کا طوفان سے مقابلہ' حضرت موسی کا کوہ طور پر امتحان' حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کی جدائی' حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنا' حضرت عیسی کا مصلوب ہونا' خاتم الانبیاء ۖ کا کفار سے متعدد جنگیں کرنا اور ان کے ظلم و ستم سہنا' امیر المومنین حضرت علی کا طویل عرصہ خاموش رہنا اور خلافت کے زمانہ میں متعدد چیلنجز کا سامناکرنا' حضرت امام حسین کا میدان کربلا میں قربان ہونا غرض یہ کہ تمام ائمہ کے بعد فقہاء ' علمائ' مجتہدین اور حق کا پرچار کرنے والے تمام انسان قربانی دیتے چلے آرہے ہیں۔ انہی قربانیوں میں سے ایک قربانی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہے۔ جو رہتی دنیا تک مثال بن گئی اور اسلامی شریعت میں اس قربانی کی یاد عید الاضحی کی شکل میں منائی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ عید الاضحی کے دن نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس عظیم قربانی کی یاد میں جانور قربانی کرنے کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جانوروں کی قربانی تو محض ایک علامت ہے جس سے اس بات کا درس ملتا ہے کہ اگر خدا کی راہ میں ہمیں اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو قربان کرنا پڑے تو اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور گریز سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اسے احکامات خداوندی کی پیروی اور خدا کے نظام کے استحکام کا ذریعہ سمجھ کر ادا کردیا جائے ۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل کی یہ لازوال قربانی انسانیت اور اسلام سے وابستہ لوگوں کے لئے اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے تاکہ وہ اپنے مفادات' ذاتی خواہشات' غلطیوں' کوتاہیو ں اور خطائوں کو قربان کرنے کے بعد جانور کی قربانی کریں اور ان کے سامنے یہ نظریہ نہ ہو کہ خدا کے حضور ان کے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون پہنچتا ہے بلکہ صدق و یقین سے یہ بات ان کے مدنظر ہونا چاہیے کہ قربانی تو ایک ذریعہ ہے لیکن اصل میں ان کا ہدف ان کی نیت' ان کا ایثار' خلوص اور جذبہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے لہذا انہیں عید الاضحی مناتے وقت اور قربانی کرتے وقت اس خاص امر کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاء کرام' ائمہ معصومین 'شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے ۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل' بحرانوں' چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔
.....
/169