22 اکتوبر 2012 - 20:30

کویت میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں اضافے نیز عوامی احتجاج کے بڑھنے کے پیش نظر کویتی حکومت اس بات پر مجبور ہوگئی ہے کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے ملک میں مناسب حفاظتی اقدامات کرے۔اسی تناظر میں کویت کی کابینہ نے ملک میں مظاہروں کے حوالے سے خبردار کیا ہے

ابنا: حکومت کویت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی علاقے میں بیس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے کے لئے حکومت کی اجازت ضروری ہے ۔کابینہ کے اجلاس میں طے پایا ہے کہ پولیس اس بات کی ذمہ دار ہے کہ بغیر اجازت کے اجتماع کو  فوری منتشر کرے اور قانونی اجازت کے حامل اجتماع میں بھی موجود رہے۔کویتی گورنمنٹ اور وزارت داخلہ نے بھی عوام سے کہا ہے کہ قانون کا احترام کیا جائے اور مطالبات کو پرامن طریقے سے پیش کیا جائے۔کویت میں دو دن قبل عوامی مظاہرے ہوئے جو بعد میں حکومت مخالف احتجاج میں بدل گئے ان مظاہروں میں سو سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ کویت کی تاریخ میں پچاس ہزار افراد کا احتجاجی اجتماع ایک انہونا واقع ہے۔یہ اجتماع کویت کے بادشاہ کے اس فرمان کے ردعمل میں انجام پایا جس میں شاہ کویت نے انتخابات کے  قوانین  کےبارے میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے مطابق کویت میں انتخابی حلقوں میں کمی کی جائیگی اور کویتی شہری آئندہ انتخابات میں دس امیدواروں کی بجائے ایک یا دو امیدواروں کو ووٹ دے سکیں گے۔ کویت کی مختلف جماعتوں اور ماہرین کے نظر میں اصلاحات کا مقصد کویت کی مقننہ اور انتظامیہ میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔کویت کی گذشتہ پارلیمنٹ میں حکومت مخالف اور اسلام پسندوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی۔فروری 2012 کے  انتخابات میں  بھی کویت کی پچاس رکنی پارلیمنٹ میں حکومت مخالف اور اسلام پسندوں نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن اس پارلیمنٹ کو صرف چارماہ بعد تحلیل کر دیا گیا اور 2009 کی پارلیمینٹ کو دوبارہ مقننہ  کے اختیار سونپ دئيے گئے۔2009 کی پارلیمینٹ میں حکومت کے حمایتی اکثریت میں تھے۔۔امیر کویت نے حال ہی میں اس پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کردیا اور اسی سال میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کویت میں موجودہ کشیدگی سیاسی شخصیات اور حکومت کے درمیان ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کویت جنوبی خلیج فارس کی شاہی حکومتوں میں پہلا ملک ہے جس نے اپنی عوام کو پارلیمنٹ کے انتخاب کا موقع دیا لیکن اس پارلیمنٹ کو کوئی اختیار نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت کویت  کی سیاسی شخصیات اور حکومت کے درمیان کشیدگی ہے۔ سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ اور اسکے ممبران کے سامنے جوابدہ ہے جبکہ موجودہ پارلیمنٹ نے جو روش اپنا رکھی ہے اس حوالے سے وہ حکومت کے ہاتھوں میں ایک کھلونے سے ذیادہ وقعت نہیں رکھتی۔جس چیز نے کویت کی پارلیمنٹ کی عوامی حیثیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے وہ یہ کہ پارلیمنٹ کو عوام نے منتخب کیا ہے لیکن ملک کے تمام تر اختیارات امیر کویت کے ہاتھوں میں ہے اور ملک کے تمام بنیادی فیصلے اسی کے ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں.

.....

/169