17 اکتوبر 2012 - 20:30

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے از سر نو آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: روسی وزارت خارجہ کے بیان میں یورپی یونین کی ایران مخالف پابندیوں کو ناقابل قبول اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے از سر نو آغاز کے سدراہ قرار دیا گیا ہے۔ اس بیان میں صاف لفظوں میں کہا گيا ہے کہ روس کو یورپی یونین کی ایران مخالف یکطرفہ پابندیوں پر شدید تشویش لاحق ہے اور وہ ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ وہ کسی ایک ملک اور متعدد ممالک کی یکطرفہ پابندیوں کا مخالف ہے۔بیان میں مزید آیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے نامعقول اقدامات ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے گروپ پانچ جمع ایک کے اتحاد کے لۓ نقصان دہ ہیں۔روسی وزارت خارجہ نے یہ بیان ایسی حالت میں جاری کیا ہے کہ جب پیر کے دن یورپی یونین کے حکام نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں منظور کی ہیں۔یورپی حکام بارہا اس بات کا دعوی کرچکے ہیں کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ حالانکہ یورپ مذاکرات پر یقین ہی نہیں رکھتا ہے اور وہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں بے بنیاد الزامات کے ذریعے ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے درپے ہے۔ اور ایران کے خلاف لگائی جانے والی پابندیاں عالمی تجارت کے اعتبار سے غیر قانونی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کے دو مستقل رکن اور دنیا کے ایک سو بیس ممالک پر مشتمل غیر وابستہ تحریک کی جانب سے ان پابندیوں کی مخالفت سے اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ان مخالفتوں کے باوجود امریکہ دوسرے ممالک کے خلاف یکطرفہ پابندیوں اور اپنے غیر منطقی رویۓ کو مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔یورپی یونین اور امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ پابندیوں میں شدت کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کو تعطل کا شکار کس نے کیا ہے؟ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ یورپی یونین نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کے بعد یکم جولائی دو ہزار بارہ سے ایران کے تیل کا بائیکاٹ کردیا۔ امریکہ نے بھی یورپی یونین کی پابندیوں کا خیر مقدم  کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا اور ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران تنہائی اور عالمی مطالبات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ان تمام بیانات اور رویوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ اور یورپی یونین صرف بہانے بازی کے درپے ہیں۔ بہانے بنانے کا یہ سلسلہ اگرچہ کئی برسوں سے جاری ہے لیکن ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان از سر نو مذاکرات کے آغاز کے موقع پر اس طرح کے بہانے بنانے کی وجہ سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے بعض فریقوں کے اہداف و مقاصد کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں حالانکہ مذاکرات صرف اسی وقت فریقین کے لۓ قابل قبول ہوسکتے ہیں جب  وہ باہمی حقوق کے احترام کی بنیاد پر ہوں۔ 

.....

/169