16 اکتوبر 2012 - 20:30

صہیونی ریاست کے محکمۂ شماریات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے صہیونیوں کی واپسی میں شدت کا اعتراف کیا ہے۔

ابنا: محکمۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار دس کے اواسط سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے صہیونیوں کے واپس جانے کے عمل میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سنہ دو ہزار دس کے اواسط سے  سنہ دو ہزار گيارہ کے اواسط تک پندرہ ہزار سے زیادہ صہیونی مقبوضہ فلسطین کو چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ اسی تناظر میں صہیونی ریاست کے ریڈیو نے خبر دی ہے کہ اسرائيلی حکام کو اس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنے والے صیہونیوں کی نسبت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو چھوڑ کر جانے والے صہیونیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صہیونی ریاست کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی شہریت رکھنے کے باوجود گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریبا آٹھ لاکھ پچاس ہزار صہیونی مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جاچکے ہیں۔
مختلف اعداد و شمار سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست زوال کا شکار ہوچکی ہے۔ یہ ایک جعلی اور ناجائز حکومت ہے اور سیاسی ، اقتصادی اور سماجی تمام شعبوں میں زوال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ صورتحال صہیونی حکام کے لۓ خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔
صہیونی ریاست کا زوال اس قدر واضح اور آشکار ہےکہ  اسرائیلی حکام اسے چھپانے پر قادر نہیں ہیں  اور وہ  بگرتی ہوئي صورتحال کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔
سماجی اعتبار سے بھی صہیونی ریاست کو ہمیشہ سے آبادی اور قلمرو جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس لۓ یہ حکومت فلسطینی سرزمینوں پر قبضے اور یہودیوں کو ان علاقوں میں آنے کی ترغیب  دے کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
اسی تناظر میں اسرائيلی حکومت نے مختلف حربوں کے ساتھ دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود یہودیوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسانے کا راستہ ہموار کیا جبکہ ان یہودیوں میں گوناگوں اختلافات پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسائے جانے والے یہودیوں کا کوئي تشخص نہیں ہے اور صہیونی ریاست کی بقا کا کوئي امکان نہیں ہے۔ صہیونی ریاست  فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنے والے یہودیوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا رکھتی ہے۔ جس کی وجہ سے  مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود اسرائیلی بھی صہیونی ریاست سے ناخوش ہیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنے والے یہودی جب ان علاقوں میں پہنچتے ہیں تو ان کو یہاں کی ابتر اقتصادی ، اجتماعی اور سیاسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر ان کو پتہ چلتا ہے کہ بہشت موعود سے متعلق صہیونی حکام کے دعوے کھوکھلے ہیں۔
ان حالات میں مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں میں آنے والے یہودی مختلف طریقوں سے اس جہنم سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو صہیونی حکام نے ان کے لۓ تیار کر رکھی ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے صہیونیوں کی واپسی اور خود سوزی جیسے واقعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صہیونیوں  کے نزدیک بھی صہیونی ریاست کی کوئي قانونی حیثیت نہیں  ہے اور وہ  اس وحشی حکومت  کے زیر سایہ زندگی گزارنے پر تیار نہیں ہیں۔

.....

/169