15 اکتوبر 2012 - 20:30

حال ہی میں خاتم الانبیاء (ص) فضائی دفاعی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران ڈرون کی صنعت میں روزانہ کے حساب سے ترقی کررہا ہے اور حازم نامی ڈرون حتی کہ دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کرسکتا ہے اور فضائی دفاعی مشن پر بھیجا جاسکتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیاء (ص) فضائی دفاعی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسمعیلی نے کہا حازم تین مختلف قسموں میں تیار کیا گیا ہے جو کم فاصلے متوسط فاصلے اور طویل فاصلے تک مارکرسکتا ہے؛ جاسوسی مشن پر بھیجا جاسکتا ہے، ہتھیار لے کر دشمن کو نشانہ بن سکتا ہےانھوں نے کہا کہ ایرانی ڈرونز خاص طور پر خلیج فارس میں دشمن کے تمام اہداف کی نگرانی میں مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ایران نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے زمانے سے ہی ڈرون پر کام کا آغاز کیا تھا اور آج ایران میں ڈرونز کے درجنوں نمونے موجود ہیں جن سے ملک کے مختلف علاقوں میں کام لیا جارہا ہے۔ ایرانی ڈرونز مرحلہ بہ مرحلہ ترقی کررہے ہیں۔ جیٹ انجن سے چلنے والے طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے "شاہد" اور "کرار" ڈرونز اسی قاعدے کے تحت معرض وجود میں آچکے ہیں۔ فلاؤنڈر (Flounder) نامی جدید ترین ڈرون بھی ایرانی ڈرونز کا تسلسل ہے۔ فلاؤنڈر جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ شاہد 700 کلومیٹر تک اڑ سکتا ہے ـ اور اسٹیشن سے دور  ہوسکتا ہے ـ اور کرار 1000 ایک ہزا کلومیٹر تک اور یہ ڈرونز آپریشنل صلاحیتوں میں اپنی مثال آپ ہیں۔ایرانی ڈرونز کے انتہائی چھوٹے نمونے بھی موجود ہیں جبکہ بڑے ڈرونز بھی کم نہيں ہیں۔جدیدترین ڈرون کا نام شاہد 129 ہے جو حازم کے بعد تیار ہوا ہے اور 24 گھنٹے مسلسل پرواز کرسکتا ہے اور اسٹیشن سے 2000 کلومیٹر تک دور جاسکتا ہے اور یہ ڈرون "سدید میزائل" بھی فائر کرسکتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران اس وقت مختلف قسموں کے 500 ڈرونز سے استفادہ کررہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایران ڈرون صنعت میں علاقے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اہم مقام حاصل کرچکا ہے۔ ایرانی ڈرونز طویل فاصلے تک تصویر برداری کرتے ہیں اور امریکی فضائی دفاعی نظامات کے اوپر سے محفوظ پرواز کرتے ہیں اور عراق پر امریکی حملے کے بعد تمام امریکی فوجی اڈوں کی تازہ ترین اطلاعات اکٹھی کرکے ایرانی افواج کو ارسال کرتے رہے ہیں۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

صہیونی فضائی دفاعی فورسز کا کمانڈر برطرف