ابنا: مہدی غضنفری نے کل بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے وزرائے صنعت کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کے اہداف کے حصول کے لۓ سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق رکن ممالک کی صلاحیتوں سے زیادہ بہتر انداز میں استفادہ کیا جانا چاہۓ۔ مہدی غضنفری نے تہران اور استنبول میں اس سے قبل ہونے والے ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے اجلاسوں میں طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا راستہ ہموار کۓ جانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے نائب وزرائے صنعت کو چاہۓ کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لۓ آئندہ مہینوں کے دوران ایک واضح ایجنڈے کے تحت موجودہ میکنیزم پر نظر ثانی کریں اور اس سلسلے میں اپنی تجاویز ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے وزرائے صنعت کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔مہدی غضنفری نے مزید کہا کہ ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کا ایک دوسرے کو اپنے تجربات سے آگاہ کرنا اور صنعتی میدان میں بہترین رویۓ کو نمونۂ عمل قرار دینا یقینی طور پر بہتر نتائج کے حصول کے سلسلے میں اس گروپ کے تمام رکن ممالک کے لۓ ممد و معاون ثابت ہوگا۔اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ برس تین ارب چار سوانیس ملین ڈالر کی مالیت کا سامان ڈی ایٹ گروپ کے سات رکن ممالک کو برآمد کیا تھا جبکہ چار ارب چار سو اسّی ملین ڈالر کی مالیت کا سامان درآمد کیا جو کہ ایران کی گزشتہ برس کی کل درآمدات کا سات اعشاریہ تین فیصد ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک میں جو صلاحیتیں اور مواقع پائے جاتے ہیں اگر ان کی اچھی طرح آگاہی حاصل کر لی جائے تو ان ممالک کی اقتصادی اور تجارتی وابستگي میں کافی حد تک کمی واقع ہوگی اور علاقائي اور عالمی سطح پر ان ممالک کے قومی اقتدار اعلی اور مواقف کی تقویت ہوگی۔ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کی نو سو پچاس ملین آبادی دین اسلام کی پیرو ہے جس کی وجہ سے یہ گروپ مختلف بحرانوں اور چیلنجوں کی شکار دنیا میں مشترکہ مفادات کے حصول کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے درمیان جغرافیائی فاصلوں کی وجہ سے پیدا شدہ مشکلات کے باوجود اگر ترقی پذیر اسلامی ممالک کے باہمی موثر تعاون سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ ممالک عالمی سطح پر زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی مینیجمنٹ میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لۓ ضروری ہے کہ ڈی ایٹ گروپ کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون جاری رکھنے کے محرکات پیدا کۓ جائیں۔ڈیٹ ایٹ گروپ آٹھ ترقی پذیر اسلامی ممالک پر مشتمل ہے جن میں اسلامی جمہوریہ ایران ، پاکستان ، ترکی ، نائجریہ ، مصر ، بنگلہ دیش ، ملائشیا اور انڈونیشیاء شامل ہیں۔ یہ گروپ جون انیس سو ستانوے کو وجود میں آیا اور اس کا مقصد ترقی پذیر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات کی برقراری اور عالمی منڈیوں میں اس گروپ کا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔گروپ ڈی ایٹ اسلامی تعاون تنظیم کے بعد دوسرا بڑا مضبوط گروپ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا رکن ہر ملک قابل قبول اور مناسب مقام و منزلت کا حامل ہے۔
.....
/169