6 اکتوبر 2012 - 20:30

اسرائیل کی فضائیہ نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون طیارے کو تباہ کر دیا ہے جس کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی حدود اب محفوظ نہیں رہی۔ اسرائیل کے مطابق ایران نےاسرائيل کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔

ابنا: اسرائیلی حکام کو ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ طیارہ کہاں سے آیا تھا۔فوجی اہلکار صحراء النقب کے شمال میں اس طیارے کے ٹکڑے ڈھونڈ رہے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس سلسلے میں حزب اللہ پر انگلی اٹھائی ہے اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ لبنان نے کی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق طیارہ جاسوسی کی غرض سے تھا اور اس میں دھماکہ خیز مواد موجود نہیں تھا۔

نامعلوم ڈرون مقبوضہ فلسطین کی فضا میں داخل ہونے کے بعد غزہ سے ہوتا ہوا مقبوضہ فلسطین میں داخل ہوا اور دیمونا کے علاقے میں اسرائیلی جوہری تنصیبات کی جانب پرواز کرتا رہا یہاں تک کہ دیمونا سے 40 کلومیٹر کے فاصلے تک بھی پھنچا جہاں صہیونی جنگی طیاروں نے اس کو مار گرایا۔

صہیونی ریاست کے حکام نے ویسے تو اس کاروائی کو اسرائیل کی کامیابی قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ غاصب ریاست مزيد خوفزدہ ہوچکی ہے کیونکہ نامعلوم ڈرون طیارہ صہیونی ریاست کی اربوں ڈالرز کے فضآئی دفاعی نظام کو ناکام بنانے اور اسرائیل کی فضائی زدپذیری کو ثابت کرچکا ہے اور پیٹریاٹ میزائل یا اہنی گنبد وغیرہ وغیرہ بھی بے کار ہیں۔ اسرائیل کو اب کسی ملک کو جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے کئی مرتبہ سوچنا پڑے گا یہی وہ چیز ہے کہ اسرائیل کو خوفزدہ کررہی ہے کیونکہ اب اسرائیل کوئی نئي جنگ نہیں لڑسکے گا اور اسرائیل اور اس کے محکوم امریکہ کی پالیسیوں کا ایک نہ مٹنے والا اصول یہ ہے کہ "زندہ، برقرار اور طاقتور رہنا ہے تو لڑنا پڑے گا اور نہیں لڑسکوگے تو اپنی نابودی کے لئے تیاری کرو"۔

.....

/169 ـ 110