ابنا: پاکستان کےچیف جسٹس افتخارمحمدچودھری چودہ رکنی بینچ کےہمراہ نیٹوکی جانب سےکسٹم ڈیوٹی ادا نہ کئےجانےکےکیس کی سماعت کررہے ہيں۔اسی بناپرپاکستان انکم ٹیکس آفس کےاہلکاراوراس کےنمائندےکوکل کورٹ میں طلب کیاگیاتاکہ نیٹوکےٹینکوسےکسٹم ڈیوٹی وصول نہ کئےجانےسےمتعلق جواب طلب کیاجائے۔اس سلسلےمیں پاکستان کےچیف جسٹس نےکہاکہ قانون کےمطابق تیس دن کی مہلت دی گئی تھی تاکہ پاکستان سےافغانستان کےلئےجانےوالےنیٹوکےکنٹینروں کی کسٹم ڈیوٹی خزانےمیں جمع کرائی جائےلیکن گیارہ مہینےگذرنےکےباوجودابھی تک یہ رقم خزانےمیں جمع نہيں کرائی گئی۔اس کیس کی سماعت کرنےوالی بینچ کےایک اورجج جسٹس خلجی نےکہاکہ ملک کامحکمہ آڈٹ نیٹوسےکسٹم ڈیوٹی کی وصولی کےمسئلےکونظراندازکررہا ہے اوراس کامطلب یہ کہ ملک کےخزانےسےایک بڑی رقم چرائي گئي ہے اوراس رقم کی عدم ادائگی سے خزانہ بجٹ خسارےکاشکارہوجائےگا۔پاکستان کےقبائلی علاقوں پرامریکی فوج کےحملوں ، اسلام آباد کےقریب ایبٹ آباد علاقےمیں کاروائی کرکےالقاعدہ کےسرغنہ بن لادن کی ہلاکت کےبعد امریکہ اورپاکستان کےتعلقات میں کشیدگی پیداہوگئی تھی اوراس کےبعد حکومت پاکستان نےاس ملک سے افغانستان کےلئےرصد پہنچانےوالے نیٹوکےکنٹینروں اورٹرکوں کاراستہ بندکردیاتھا۔لیکن تقریبادومہینےپہلےحکومت پاکستان نے کسٹم ڈیوٹی کی ادائگی سمیت کچہ شرائط کےساتھ نیٹوکےکنٹینروں کوگذرنےکی اجازت دےدی لیکن پاکستان سپریم کورٹ کی رپورٹ سےپتہ چلتاہےکہ نیٹونےاب تک پاکستان کوکسی طرح کی کسٹم ڈیوٹی ادا نہيں کی ہے یہ مسئلہ پاکستانی سپریم کورٹ کی نظرميں کسٹم کےادارے میں ایک طرح کی مالی بدعنوانی ہے جوممکن ہے نیٹوکی ہماہنگی سےانجام پائی ہو جس نےخزانےکوکافی نقصان پہنچایاہے۔البتہ یہ پاکستان سےافغانستان کےلئےگذرنےوالےنیٹوکےکنٹینروں کےمعاملہ کاسپریم کورٹ کی جانب سےنوٹس لئےجانےکےمترادف ہے۔پاکستان سےنیٹوکےکنٹینروں کے گذرنےکےخلاف پاکستان میں بڑےپیمانےپرعوامی ناراضگی پائی جاتی ہے اوراس سلسلےمیں کئی بارملک گیرمظاہرےبھی ہوچکےہيں لیکن حکومت پاکستان ان مظاہروں کونظراندازکرتی رہی ہے لیکن اب عدالت کی جانب سےاس کیس کانوٹس لئےجانےکےبعد اورکیس کی سماعت شروع ہونےکےبعدکہ جس کےبارےمیں ججوں کاکہناہےکہ بڑےپیمانےپربدعنوانی ہوئی ہے ، پاکستان کسٹم آفس حتی فوجی افسروں کےلئےمسائل کھڑےہوسکتےہيں ۔درایں اثناامریکی سینٹ ، پاکستان کودی جانےوالی امداد روکنےکےبل کی حمایت کرکے اسلام آباد حکومت پرمزیددباؤ ڈالناچاہتی ہے۔ امریکی سینٹ نےاعلان کیاہےکہ جب تک القاعدہ سرغنہ بن لادن کےخفیہ ٹھکانےکاپتہ لگانےمیں سی آئی اے کی مدد کرنےکے ذمہ دار ڈاکٹرآفریدی کوجیل سےرہا نہيں کیاجاتااس وقت تک امداد میں کمی جاری رہنی چاہئے ۔ سینٹررانڈپل کی جانب سےپیش کئےجانےوالےاس بل کےخلاف اکاسی ووٹپڑے جبکہ اس کےحق میں صرف دس ووٹ ڈالےگئے۔اس کامطلب یہ ہےکہ امریکہ پاکستان کودی جانےوالی مالی اورفوجی مدد کواسلام آباد پرمزید دباؤ ڈالنےکاآلہ کار بناناچاہتاہے ۔ چنانچہ نیٹوکےکنٹینروں کی ٹرانزٹ فیس کی عدم ادائگی کےساتھ ہی پاکستان کی مالی امداد روکنےکامسئلہ، امریکہ کےساتھ تعاون نہ کرنےکےلئےپاکستان میں رائےعامہ کےدباؤمیں مزید اضافہ کرسکتاہے۔
....
/169