ابنا: لندن میں مسلم ایکشن فورم کے زیر اہتمام امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف ہزاروں برطانوی مسلمانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی موجودگی میں علمائے کرام، مشائخ عظام اور کمیونٹی رہنماوں نے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔
رسول کریم [ص] کی شان میں بنائی گئی گھٹیا ترین فلم کے خلاف امریکی سفارتخانے کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شدید بارش اور بدترین موسم و سردی کے باوجود ایک اندازے کے مطابق 5 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا اور فلم بنانے والے ملعونوں کے خلاف نعرے درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرین نے فلک شگاف نعرے لگائے جن کی وجہ سے علاقہ گونجتا رہا اور یہ آوازیں سفارتخانے کی اونچی دیواروں کو چیرتی ہوئی امریکی ایوانوں تک پہنچتی رہیں۔
اگرچہ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے مسلم ایکشن فورم نے سیکورٹی سٹورٹ تعینات کررکھے تھے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سفارتخانے کے آس پاس پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی۔ تاہم کسی بھی وقت تناو¿ کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔ اس موقع پر علمائ کرام اور مشائخ عظام نے اپنے خطاب میں مغربی اقوام اور حکومتوں کو خبردار کیا کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور ان کی حساسیت کا احترام کریں اور رسول کریم [ص] کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہونے دیں۔
مسلمان تو اپنے والدین کی توہین برداشت نہیں کرسکتے ہیں وہ شان رسالت میں کوئی گستاخی کیسے برداشت کرسکتے ہیں جو تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں۔ اس موقع پر انگریزی میں ایک اعلامیہ بھی پڑھا گیا جس میں فلم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
روحانی پیشواو¿ں، آئمہ کرام، برطانوی مساجد کے ٹرسٹیز اور اہلسنت کی تمام جماعتوں پر مشتمل مسلم ایکشن فورم کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مغربی لیڈر مسلمانوں کے رسول کریم [ص] اور مذہب کے خلاف نفرت پر مشتمل مواد کی مذمت کریں اور دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کریں۔
.....
/169