20 ستمبر 2012 - 20:30

ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی ، آئی اے ای اے ، میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے گزشتہ کئي عشروں کے دوران صہیونی ریاست کے اسلحہ جاتی منصوبہ کے بارے میں سلامتی کونسل کی لاتعلقی پر سخت تنفید کی ہے۔

ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے جمعرات کی شام ویانا میں آئي اے ای اے کے چھپنویں سالانہ اجلاس میں اپنی تقریر میں مشرق وسطی میں صہیونی ریاست کو ایٹمی ہتیھاروں سے پاک علاقے کے قیام میں واحد رکاوٹ قرار دیا اور این پی ٹی معاہدے میں صہیونی ریاست کی شمولیت نیز اس غاصب حکومت کی ایٹمی تنصیبات پر آئی اے ای اے کی نگرانی کے بین الاقوامی مطالبہ پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔علی اصغر سلطانیہ نے اپنی تقریر میں تہران میں منعقدہ ناوابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس میں مسئلۂ فلسطین کی راہ حل سے متلعق رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کے اقتباس کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ صیہونی حکومت کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی سے بین الاقوامی تشویش میں بے حد اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے صہیونی ریاست کے خلاف عالمی برادری کے اقدام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

.....

/169