ابنا: ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ یورپ کی تنگ نظری اور دوغلی پالیسی کا یہ عالم ہے کہ وہاں ہٹلر نام رکھنا جرم ہے ہلوکاسٹ پر گفتگو کرنے پر سزا دی جاتی ہے لیکن رحمت للعالمین کی شان میں گستاخی کو آزادی اظہار کا نام دیا جا رہا ہے،
انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اگر افغانستان میں مہاتما بت کے مجسمے کو توڑا جائے تو دنیا واویلا مچاتی ہے لیکن دیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری پر اقوام عالم خاموش ہیں،
گستاخانہ فلم پر فوری عالمی رد عمل سامنے نہ آنے کی وجہ سے ہی ایک فرانسیسی میگزین بھی گستاخی پر اتر آیا ۔امریکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی مسلمانوں کی شدت پسندی قرار دے دیتا ہے لیکن اتنے بڑے جرم کو آزادی رائے کا نام دے منافقانہ کردار دادا کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بننے والی یہ توہین آمیز فلم اور کارٹون دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کہا کہ سرکار رسالتۖ کی شان میں کی جانے والی اس گستاخی پر راست قدم اٹھاتے ہوئے امریکی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور امریکی سفارت خانے کی توسیع روک دی جائے نیز ملک میں امریکیوں کی آزادانہ آمدو رفت پر پابندی عائد کی جائے علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اگر حکومت نے گستاخانہ فلم کے حوالے سے کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو پھر عوام انتہائی اقدامات سے بھی گریز نہیں کریں گے ،ہم ناموس رسالت پرا پنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں.
.....
/169