18 ستمبر 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہےکہ ان کے دورہ شام کا مقصد بحران شام کا راہ حل تلاش کرنا اور دوطرفہ تعلقات میں مزید توسیع لانے کے لئے گفتگو کرنا ہے۔

ابنا: وزیر خارجہ علی اکبر صالحی آج مصر کا دورہ مکمل کرکے دمشق پہنچے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام کے بحران کا گفتگو سے حل نکل آئے گا جس پر حکومت شام، علاقائي ممالک اور عالمی ادارے راضی ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہيں کہ وہ خود اپنے علاقے کے مسائل حل کریں ۔ انہوں نے قاہرہ میں شام کے بارے میں چار فریقی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے  ہوئے کہا کہ اس نشست میں سعودی عرب شرکت نہ کرسکا تاہم بعد کے اجلاسوں میں شرکت کرے گا۔ علی اکبر صالحی نے مصر سے روانہ ہونے سے قبل ایک مصری ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر تیار ہے۔ انہوں نے مصری ٹی وی پروگرام میں عربی میں گفتگو کرتے ہوئے مصری عوام کو انقلاب کی کامیابی کی مبارک باد پیش کی اور مصر کی حکومت اور ملت کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران کے خلاف  صہیونی ریاست کے حملوں کی دھمکیوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کی یہ حيثیت نہیں ہے کہ وہ ایران جیسے بڑے ملک پرحملہ کرسکے کیونکہ اگر وہ یہ کام کرسکتی تو اب تک کرچکی ہوتی۔
.....
/169