ابنا: مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانِ رسالت (ص) میں امریکی ملعونوں نے گستاخی کی، جس پر پوری دنیا میں عالم اسلام سراپا احتجاج ہے، پاکستان کے مسلمانوں نے بھی اپنے مذہبی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عاشقانِ رسول (ص) ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیطان بزرگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں کراچی میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے آج احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا اور پرامن مظاہرین امریکن قونصلیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے، لیکن شیطان بزرگ اور گستاخ رسول کے وفادار کراچی کی پولیس اور رینجر نے نہتے عاشقان رسول (ص) پر گولیاں برسائیں اور درجن سے زیادہ مظاہرین کو زخمی کر دیا۔
علامہ اسدی نے کہا کہ امریکن قونصلیٹ سے بھی بلا جواز مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ہمارے مجلس وحدت مسلمین کراچی کے ترجمان علی رضا جام شہادت نوش کر گئے، اب تک ہمارے درجنوں زخمی کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں موجود ہیں، ہم آج پورے ملک کے رکھوالوں سے سوال کرتے ہیں کہ جو ملک اللہ اور محمد عربی (ص) کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس ملک میں شاتم رسول کو تو حفاظت دی جاتی ہے، لیکن عاشقان رسول (ص) کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ابدی نیند سلایا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا توہین رسالت قانون اس لیے بنایا تھا کہ رسول (ص) کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو تو تحفظ دیا جائے اور گستاخ رسول کے خلاف مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کیا شان رسالت (ص) کے حق میں احتجاج کرنا ہر ایک مسلمان کا مذہبی فریضہ نہیں؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی، ڈی پی او اور ڈی جی رینجر کو فوری طور پر معطل کرکے توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو پناہ دینے کے جرم کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور ان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔
علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ اگر ان پولیس افسران اور فائرنگ کے ذمہ داران کو گرفتار نہ کیا گیا تو ملک کے کونے کونے میں نہ رکنے والا احتجاجی سلسلہ شروع کر دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسد عباس نقوی، چیئرمین عزادری سیل حیدر علی مرزا اور مظاہر شگری نے گفتگو کی۔ مجلس وحدت کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ سے تعلقات ختم کئے جائیں اور پولیس اور حکومتی اداروں میں موجود امریکی ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
.......
/169