11 ستمبر 2012 - 19:30

امریکی حکومت نے اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کی ہے لیکن کیا کسی کو یقین آسکتا ہے کہ پچاس لاکھ ڈالر کے سرمائے سے بننے والی فلم کی تیاری کے مراحل اور پاگل پادری کے مسلسل اسلامی دشمن اقدامات وائٹ ہاؤس کے دجالوں کی اطلاع اور منظوری کے بغیر انجام پاتے رہے ہوں؟!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں رسول اللہ (ص) اور دین اسلام کی توہین و گستاخی پر مبنی شرمناک فلم کی تیاری پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے مذمتی بیان میں اس تہذیبی جرم و درندگی کی مذمت کی۔اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ انبیاء، قدیسین اور ادیان و مذاہب کے قابل احترام افراد کی توہین ایک ایسا گناہ ہے جو کسی بھی مکتب کے نزدیک قابل قبول نہيں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ: "اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سابقہ توہین کی بنیادی وجہ اسلام اور قرآن کی حکمت آمیز اور الہی تعلیمات کی عدم شناخت اور عدم آگہی تھی لیکن یہ حرکت ـ جس طرح کہ اس فلم کے ڈائریکٹر نے امریکی اور اسرائیلی ذرائع کو بتایا ہے ـ آگاہانہ اور سیاسی اہداف کے حصول کے لئے انجام پائی ہے۔ اس بیان میں اس توہین آمیز اقدام کے حوالے سے مجرم امریکہ کو ہی مجرم ٹہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے: "امریکی حکومت اپنے آپ کو اس توہین آمیز اقدام سے بری الذمہ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ بات کس کے لئے قابل یقین ہوسکتی ہے کہ صہیونی ریاست کے پچاس لاکھ ڈالر کے سرمائے سے بننے والی اس فلم کے مختلف مراحل نیز پاگل پادری کے مسلسل اسلام دشمن اقدامات وائٹ ہاؤس میں مقیم دجالوں کی منظوری اور یا ان کی اطلاع کے بغیر عمل میں آئے ہونگے!؟عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے اس بیان میں اسلام اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کے تمام عاشقوں اور تمام مسلمانان عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں، بیانات وغیرہ کے ذریعے اس اقدام کریں اور اس فلم کو دنیا بھر میں ممنوع قرار دلوانے کے لئے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں اور مستقبل میں ان شیطانی حرکتوں کا سد باب کریں۔امریکی ـ صہیونی توہین آمیز فلم پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا مذمتی بیان:

بسم الله الرحمن الرحیم

إنَّكَ لا تُسمِعُ المَوتَى وَلا تُسمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدبِرِين ‏(نمل: 80)

پس (اے حبیب!) بے شک آپ نہ تو اِن مردوں (کافروں) کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ ہی (صدائے حق سننے سے محروم) بہروں کو، جب کہ وہ پیٹھ پھیرے جا رہے ہوںo۔

امت اسلامی کی بیداری سے دشمنان انسانیت کی بیچارگی اور پریشان احوالی، نے ایک بار پھر انہیں واہیات ترین روشوں کا سہارا لے کر، دین مبین اسلام کے خلاف اپنا کینہ ظاہر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس بار ایک صہیونی / یہودی ڈائریکٹر نے  اپنے ہم پالکیوں (اور ہمفکروں) سے بڑی رقم لے کر، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کے خلاف ایک توہین آمیز فلم بنائی ہے۔ اس فلم میں ـ جو کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں صہیونی یہودیوں، امریکہ میں پناہ گزین مصری قبطیوں اور پاگل امریکی پادری کے تعاون سے بنی ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور اسلام کی ایسی بے حرمتیاں ہوئی ہیں جن کے بیان سے زبان شرماتی ہے۔عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، سینکڑوں دینی و علمی مفکرین پر مشتمل بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے ـ جو دنیا کے کروڑوں دینداروں کے فکری اور تعلیمی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ـ اس تہذیبی جرم کے رد عمل کے طور پر، مسلمانان عالم کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مبذول کراتی ہے:1۔ انبیاء، قدیسین اور ادیان و مذاہب کے نزدیک قابل احترام افراد کی توہین، ایسا عمل ہے جو کسی بھی مکتب و عقیدے کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کرتے ہیں کسی بھی دین و مکتب کے پیروکار نہیں ہوسکتے بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں۔2۔ سب جانتے ہیں کہ اسلام سے دنیاوالوں کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی (اسلام فوبیا) 11 ستمبر 2001 کے بعد دنیا میں عروج کو پہنچی؛ حالیہ برسوں میں فنکارانہ گستاخیوں کی صورت میں، کارٹون بنانے، قرآن سوزی اور فلم بنانے کی صورت میں نمودار ہوتی رہی۔ اگرچہ سابقہ گستاخیوں کی بنیاد اسلام اور اس کی حیات بخش اور حکمت آمیز الہی تعلیمات سے عدم واقفیت اور عدم آگہی تھی  لیکن یہ نئی حرکت ـ جیسا کہ اس فلم (Innocence of Muslims یا مسلمانوں کی معصومیت) کے ڈائریکٹر نے خود امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے: "مکمل آگہی، ارادے اور عمد و قصد پر مبنی ہے جس کے سیاسی مقاصد ہیں"۔ 3۔ ان واہیات اور شرمناک مناظر کے علاوہ ـ جو توجہ کے قابل ہی نہیں ہیں ـ اس فلم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کو متشدد، خونخوار اور ظالم و ستمگر انسانوں کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فلم نے بہت سے جرائم و مظالم اور انسانیت سوز درندگیوں کو ـ جو جرائم پیشہ امریکی، برطانوی اور اسرائیلی فوجی حالیہ برسوں کے دوران فلسطین، عراق اور افغانستان کے عوام کے خلاف اور گوانتانامو بے نیز عراق کی ابوغریب جیل میں نہتے قیدیوں پر آزماتے رہے ہیں ـ نہایت بے شرمی سے اسلام اور مسلمانوں سے منسوب کرنے کی کوشش کی ہے؛ حالانکہ اسلام رحمت و مہربانی کا دین اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ـ خداوند متعال کی گواہی کے مطابق ـ عالمین (تمام دنیاؤں) کے لئے رحمت ہیں۔4۔ مذکورہ بالا حقائق کی بنا پر، حقیقی مسلمانوں کا ہاتھ کبھی بھی تشدد اور آزار و اذیت سے آلودہ نہیں ہوا اور نہيں ہوگا؛ اور جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ در حقیقت تکفیری اور وہابی مسلمان نما، ہیں جو امریکہ اور مغرب کی جاسوسی ایجنسیوں کی باضابطہ حمایت سے بہرہ مند ہیں اور ان کے مفاد کے لئے دہشت گردی کی کاروائیاں کررہے ہیں۔ 5۔ شمالی افریقہ کے انقلابی ممالک ـ بالخصوص مصر ـ سے متعلق لوگوں کی جانب سے اس فلم کی تیاری اور نمائش سے علاقے میں اسلامی بیداری کی بیداری سے امریکیوں اور صہیونیوں کے غیظ و غضب کا پردہ بخوبی فاش ہوگیا ہے۔ صہیونی اور امریکی ـ جو علاقے میں اپنے مفادات کو نیست و نابود ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ـ ان شکست خوردہ حرکتوں کے ذریعے بہے ہوئے پانی کو نالے میں لوٹانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ 6۔ امریکی حکومت۔ جو اب دنیا کے جاگے ہوئے مسلمانوں کے غیظ و غضب سے دوچار ہوئی ہے، اپنے آپ کو اس قبیح اقدام سے بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے؛ لیکن کیا یہ باور کرنا ممکن ہے کہ 50 لاکھ ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس فلم کے تمام مراحل اور پاگل پادری کے مسلسل اسلام دشمن اقدامات وائٹ ہاؤس میں مقیم دجالوں کی اطلاع اور منظوری کے بغیر انجام پاتے رہے ہوں گے؟7۔ اگرچہ بےگناہ افراد کی ہلاکت اور سفارتی دفاتر پر حملے، ہمارے نزدیک قابل تأئید نہيں ہیں لیکن دنیا کو کھاجانے کی خواہش رکھنے والے امریکیوں اور جرائم پیشہ صہیونیوں کو جان لینا چاہئے کہ لیبیا میں امریکی سفارتکاروں کی ہلاکت اور مصر میں امریکی سفارتخانے پر حملے جیسے اقدامات، مسلمانوں کے مقدسات کی مسلسل توہین کا فطری اور منطقی نتیجہ ہے۔ اگر امریکی حکومت، اس دن احمق امریکی پادری "ٹیری جونز" کو لگام دیتی جب اس نے قرآن کو کیمرے کے سامنے نذر آتش کیا، یا اس دن امریکی فوجیوں کو عبرتناک سزا دیتی جب انھوں نے بگرام بیس پر قرآن مجید کی توہین کی، آج وہ اپنے سفیر اور شہریوں کی ہلاکت کی متحمل نہ ہوتی۔8۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی تمام مسلمین عالم اور عاشقان رسول (ص) ـ بالخصوص پیروان اہل بیت (ع) ـ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مظاہروں، تقاریر اور مذمتی بیانات کے ذریعے اس توہین آمیز اقدام پر احتجاج کریں اور اس فلم کا بائیکاٹ کرنے اور کرانے نیز اس قسم کے شیطانی اعمال کا سد باب کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ غیور مسلمان، اپنے مقدس غضب پر قابو پاکر تشدد آمیز اقدامات اور افراد و مقامات پر حملوں سے پرہیز کریں اور اپنے احتجاجی اقدامات، منطقی اور پرامن ـ مگر تسلسل اور سنجیدگی کے ساتھ ـ آگے بڑھا دیں۔9۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سنجیدہ اقدامات کے ذریعے، اس قسم کے تہذیبی اور ثقافتی جرائم کا سد باب کریں؛ کیونکہ اگر لوگوں کے اعتقادات کی توہین ـ بیان کی آزادی جیسے عنوانات سے ـ رائج ہوجائے تو تشدد اور خونریزی کا راستہ روکنا، ناممکن ہوجائے گا۔ 10۔ آخری نکتہ علاقے کے انقلابی ممالک کے نئے حکمرانوں کے نام:امریکہ اور مغرب اب مالی اور سیاسی امداد کے وعدوں سے عوام کے انقلابات کو اغوا (Hijack) اور ان انقلابات کے لئے خون و جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کے خون کو اپنے حق میں ضبط کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو آپ کے پیشرو حکمرانوں کی مانند اپنے کٹھ پتلیوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؛ لیکن جیسا کہ آپ ان دنوں دیکھ رہے ہیں، وہ کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں کے دوست نہيں ہوسکیں گے۔ لہذا امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں کی جانب مائل ہونے کے بجائے، اسلام کی ندا اور اپنے عوام کے مطالبات کو سن لیں اور جان لیں کہ حقیقی طاقت اللہ پر حقیقی ایمان اور مسلمان عوام کی طاقت پر بھروسا کرنے میں مضمر ہے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی 12 ستمبر 2012

...........قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک صہیونی شخص نے یہ شرمناک فلم امریکہ میں مقیم بعض قبطی پناہ گزینوں اور پاگل امریکی پادری ٹیری جونز کی مدد سے بنائی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دین مبین اسلام کی توہین پر مبنی ہے۔یہ توہین آمیز فلم دو ناموں سے متعارف کرائی گئی ہے: "مسلمانوں سے برائت و بیزاری (Innocence of Muslims) اور "رسول اسلام محمد [صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم] کی حیات"۔یہ شرمناک اور توہین آمیز ایک شوقیہ ویڈیو (Amateur video) ہے جس کا ڈائریکٹر ایک امریکی صہیونی سام باسیل (Sam Basil) ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایسی اہانتوں کا مجموعہ ہے جن کے بیان سے زبان شرماتی ہے۔........../110