ابنا: وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے تہران ميں اپني ہفتے وار پريس بريفنگ ميں جس ميں ملکي اور غير ملکي نامہ نگار موجود تھے، سلامتي کونسل کي اجازت کے بغير شام ميں فوجي مداخلت پر مبني امريکي وزيرخارجہ ہيلري کلنٹن کي حاليہ دھمکيوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطي کے کسي بھي ملک ميں غير ملکي فوجي مداخلت سے پورا علاقہ سنگين بحران کي لپيٹ ميں آجائے گا-
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امن و استحکام کي برقراري کے لئے ان تمام ملکوں کو جو شام کے مسائل کے حل ميں مثبت و مفيد رول ادا کرسکتے ہيں صلاح و مشورے اور باہمي اقدامات کے ذريعےاس سلسلے ميں آگے آنا چاہئے –
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ايران سعودي عرب ترکي اور مصر کے چار جانبہ اجلاس کے بارے ميں کہا کہ تہران نے بارہا اعلان کيا ہے کہ وہ ايسے ہر اقدام کي حمايت کرے گا جس سے شام کا بحران پرامن طور پر حل ہو اور اس ميں غيرملکي مداخلت نہ ہو –
وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کے صدر بشار اسد کو حکومت سے ہٹانے کے لئے دمشق کے خلاف پابندياں مزيد سخت کئے جانے کے تعلق سے يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرن اشٹن کے بيان کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ يورپي ملکوں اور امريکا نے شام کے مسائل اور علاقے کے بحران کے حل ميں کبھي مثبت رول ادا نہيں کيا ہے .
.....
/169